شام پر حملہ مہنگا نہیں ہو گا، امریکی بحریہ سربراہ

ایک ٹام ہاک 15 لاکھ ، "نیمیتز" پر فی ہفتہ اخراجات چار کروڑ ڈالر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی بحریہ کے سربراہ ایڈمرل جونا تھن گرینرٹ نے شام کے خلاف دوٹوک انداز میں ٹام ہاک کروز میزائلوں کے امکانی استعمال کی تصدیق کرتے ہوئے عمومی سطح پر بنے اس تاثر کہ'' لاگت کے اعتبار سے امریکی عوام کو یہ کارروائی بہت مہنگی پڑے گی'' کو زائل کرنے کی کوشش کی ہے۔''

اخراجات کے حوالے سے یہ کارروائی غیر معمولی نوعیت کی نہیں ہو گی ۔'' اس سے پہلے وزیر دفاع چک ہیگل نے امریکی قانون سازوں کو بتایا تھا کہ اس کارروائی پر کروڑوں ڈالر خرچ ہوں گے۔

ایڈمرل جوناتھن کے مطابق ٹام ہاک کروز میزائل شام پر امکانی امریکی حملے میں بنیادی کردار ادا کریں گے۔ اس سلسلے میں بحریہ کے جہازوں اور سب میرینز کی اہمیت بھی غیر معمولی ہے۔

اس کارروائی کے لیے اخراجات کا تخمینہ بتاتے ہوئے ایڈمرل جوناتھن نے کہا شام کے خلاف استعمال ہونے والے ایک کروز میزائل کی لاگت پندرہ لاکھ ڈالر ہو گی، جبکہ بحریہ کے جنگی جہازوں کی نقل وحرکت اور کارروائی کے عرصے میں موجودگی کے کروڑوں ڈالر کے اخراجات اس کے علاوہ ہوں گے۔

امریکی بحریہ کے سربراہ نے ایک تھنک ٹینک میں بات کرتے ہوئے کہا یہ اعداد و شمار زیادہ اخراجات کی چغلی کھاتے ہیں لیکن اس موقع پر یہ غیرمعمولی نہیں ہیں۔

واضح رہے امریکی نیوی کے چار تباہ کن بحری جنگی جہاز بحر روم میں شام پر حملے کے لیے تیارکھڑے ہیں۔ بحر احمر میں موجود امریکی طیارہ بردار جہاز "نیمیتز" بھی بوقت ضرورت مدد کو آ جائے گا۔

ایڈمرل جوناتھن نے کہا ''ان میں سے کئی جہازوں کو اس مہم سے الگ ہو کر دوسری منزل پر روانہ ہونا ہو گا، جہاں تک طیارہ بردار نیمیتز کا تعلق ہے وہ واپس آ جائے گا ، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ''اگر طیارہ بردار جہاز کو پہلے سے تیار کیے گئے منصوبے سے ایک ہفتہ یا اس سے زیادہ دیر کے لیے موجود رکھا گیا تو کیرئیر سٹرائک گروپ پر ایک ہفتے کے دوران چالیس ملین ڈالر کے اخراجات ہوں گے ۔''

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں