شام پر متوقع حملہ: عراق میں امریکی مفادات پرحملوں کے ایرانی احکامات؟

"القدس بریگیڈ" شیعہ گروپوں کو تشدد پر اکسا رہا ہے: وال اسٹریٹ جرنل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی اخبار"وال اسٹریٹ جرنل" نے ذرآئع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ شام پر امریکا کے متوقع حملے کے ردعمل میں ایران نے عراق میں امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایران کے ایک سینیئر عہدیدار نے عراق میں سرگرم عسکریت پسند تنظیموں سے کہا ہے کہ اگر باراک اوباما شام پر حملہ کریں تو اس کے جواب میں بغداد میں امریکی مفادات کو نشانہ بنایا جائے۔

وال اسٹریٹ جنرل نے امریکی حکام کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ شام کے خلاف کارروائی کے رد عمل میں بغداد میں امریکی سفارت خانہ شدت پسندوں کا اہم ٹارگٹ ہوسکتا ہے، تاہم امریکیوں نے بغداد میں اپنے دیگر مفادات کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں کی۔

رپورٹ کے مطابق حال ہی میں امریکی حکام کو ایرانی پاسداران انقلاب کے بیرون ملک سرگرم "القدس بریگیڈ" کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کا ایک خفیہ مراسلہ ہاتھ لگا ہے، جوانہوں نے مبینہ طور پر عراق میں سرگرم اہل تشیع کے شدت پسند گروپوں کو ارسال کیا تھا۔ اس مراسلے میں مسٹر سلیمانی نے بشارالاسد کے حامی شیعہ عسکریت پسند گروپوں سے کہا ہے کہ وہ خود کو دمشق پر امریکی یلغار کی جوابی کارروائی کے لیے تیار کریں۔ یہ جوابی کارروائی عراق کے اندر ہی امریکی مفادات پرہوگی۔

درایں اثناء امریکی وزارتِ خارجہ نےعراق میں مقیم اپنے شہریوں کوغیرضروری سفرسے گریزاور گھروں سے بلا ضرورت باہر نکلنے میں احتیاط سے کام لینے کی ہدایت کی ہے۔ وزارت خارجہ کی جانب سے عراق میں موجود اپنے شہریوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ سیکیورٹی کی علاقائی صورت حال کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنی سرگرمیاں ترتیب دیں کیونکہ عراق میں ان کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ عراق میں القاعدہ سمیت کئی دوسرے امریکا دشمن گروپ سرگرم ہیں وہ شام پر حملے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکی مفادات کو نشانہ بنا سکتے ہیں.

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں