مرسی نواز ریلیوں میں تشدد کے واقعات، مزید پانچ مصریوں کی ہلاکت

حکومت مخالف مظاہروں میں اخوان کے کارکنوں کی اپنے مخالفین سے جھڑپیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر کے دارالحکومت قاہرہ اور دوسرے شہروں میں برطرف صدر محمد مرسی کے ہزاروں حامیوں نے حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔ اس دوران ان کی مخالفین کے ساتھ جھڑپوں میں پانچ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

العربیہ ٹیلی ویژن چینل کی اطلاع کے مطابق مصر کی عبوری حکومت کے اسلام پسندوں کے خلاف خونیں کریک ڈاؤن کے باوجود نماز جمعہ کے بعد قاہرہ میں برطرف صدر محمد مرسی کے ہزاروں حامیوں نے سڑکوں پر آکر احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ دوسرے شہروں میں ان کی ریلیوں کے شرکاء کی تعداد کم رہی ہے۔

مصر کے دوسرے بڑے شہر اسکندریہ اور نیل ڈیلٹا کے صوبے دمیاطہ میں ڈاکٹر مرسی کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان مظاہروں کے دوران جھڑپیں ہوئی ہیں جن میں دو افراد ہلاک ہوگئے۔ 3 جولائی کو ڈاکٹر مرسی کی برطرفی کے بعد سے مصر میں حالات معمول پر نہیں آئے اور 14 اگست کو پولیس کے مسلح افواج کی سرپرستی میں اخوان کے ہزاروں کارکنان کے خلاف طاقت کے بے مہابا استعمال کے نتیجے میں حالات زیادہ خراب ہوئے ہیں اور تشدد کے واقعات میں محتاط اندازے کے مطابق دو ہزار سے زیادہ افراد مارے جاچکے ہیں۔

جمعرات کو قاہرہ میں مصر کے وزیر داخلہ محمد ابراہیم کے قافلے پر خودکش کار بم حملہ کیا گیا تھا۔ وہ اس حملے میں محفوظ رہے تھے لیکن اس واقعے کے بعد سکیورٹی سخت کردی گئی تھی۔

ابھی تک کسی گروپ نے اس حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی لیکن عبوری حکومت نے اخوان االمسلمون کی قیادت پر لوگوں کو تشدد پر اکسانے کا الزام عاید کیا ہے۔ عبوری حکومت اخوان المسلمون کے خلاف کارروائی کو دہشت گردی کے خلاف جنگ قرار دے رہی ہے اور اخوان کے مخالفین بھی اس موقف کی حمایت کررہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں