.

امریکی کانگریس شام پر حملہ نامنظور کر سکتی ہے: جیش الحر

اسد "رجیم" خود کواقلیتوں کا محافظ ثابت کرانا چاہتی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں صدر بشارالاسد کے خلاف لڑنے والی باغیوں پر مشتمل فوج "جیش الحر" کے چیف آف اسٹاف جنرل سلیم ادریس نے کہا ہے کہ انہیں خدشہ ہے کہ امریکی کانگریس صدر باراک اوباما کو بشار کے خلاف فوجی کارروائی کی اجازت نہیں دے گی۔ "اگرایسا ہو گیا تو یہ شام کے مظلوم عوام کو تنہا اور صدراسد کے رحم و کرم پر چھوڑنے کے مترادف ہوگا۔"

"العربیہ" ٹی وی کی جنگی وقائع نگار ریما مکتبی سے گفتگو کرتے ہوئے جنرل سلیم ادریس نے امریکی کانگریس سے اپیل کی کہ وہ انسانی ہمدردی کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے بشارالاسد کےخلاف فوجی کارروائی کی اجازت دے کیونکہ اب شام کے مظلوم عوام کو تنہا نہیں چھوڑا جا سکتا ہے"۔

عیسائی اکثریتی علاقے"معلولا" پر باغیوں کے قبضے کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں جنرل ادریس نے کہا کہ باغی فوج اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کر رہی ہے۔ معلولا پرکنٹرول حاصل کرکے وہاں کے باشندوں کو تحفظ دیا گیا ہے، لیکن صدر بشارالاسد خود کو اقلیتوں کا محافظ ثابت کرانے کے لیے باغیوں کو بدنام کررہے ہیں۔ انہوں نے بشارالاسد کی اسبتدادیت کے خلاف لڑنے والے باغیوں کوہدایت کی کہ وہ جنگ میں اقلیتوں اور عام شہریوں کا تحفظ یقینی بنائیں۔

خیال رہے کہ امریکی صدر باراک اوباما اوران کے چند بہی خواہ شام پر فوجی کارروائی کے لیے پرعزم ہیں تاہم انہیں سلامتی کونسل کی جانب سے حمایت نہیں مل سکی ہے۔ سلامتی کونسل میں روس کی جانب سے شام پرحملے کی قرارداد ویٹو کیے جانے کے بعد اب براک اوباما کی نظریں کانگریس کے فیصلے پر لگی ہوئی ہیں۔ اگرچہ ایوان نمائندگا نے شام پرحملے کی حمایت کی ہے تاہم سینٹ سے اس کی منظوری لینا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ ایسی صورت حال میں امریکی صدر بھی مشوش ہیں۔

ماسکو میں "جی20" اجلاس کے موقع پر ایک نیوز کانفرنس میں ان سے بار بار یہ پوچھا جاتا رہا ہے کہ کانگریس کی مخالفت کے بعد ان کا کیا لائحہ عمل ہوگا؟ تو انہوں نے اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا کہ آیا وہ کانگریس کے فیصلے کو بائی پاس کرتے ہوئے شام پرحملہ کریں یا نہیں۔