.

اوباما ۔ روحانی 'مُراسلت' کو صیغہ راز میں رکھنے کی ایرانی کوشش

واشنگٹن، تہران ثالثی کی عالمی مساعی میں ناکامی کے بعد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران اورامریکا کے درمیان شام کے معاملے پر ثالثی کی کوششوں میں ناکامی کے بعد ایک تازہ یہ خبر گردش میں ہے کہ صدر باراک اوباما اور ان کے ایرانی ہم منصب حسن روحانی کے درمیان خفیہ مراسلت بھی ہوئی ہے، تاہم ایران میں اسے احتیاطا صیغہ راز میں رکھا جا رہا ہے۔

دونوں حریف ممالک کے سربراہان کے درمیان خفیہ خط کتابت کی خبریں ایک ایسے وقت میں گرش کر رہی ہیں جب چند ہفتے قبل خلیجی ریاست سلطنت اومان کے فرمانروا الشیخ قابوس بن سعید اور اقوام متحدہ کے سفارت کار جیفری فلٹمن بھی تہران، واشنگٹن کشیدگی کم کرانے کی'ناکام' کوشش کر چکے ہیں۔

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی "مہر" کے مطابق صدر باراک اوباما اور ڈاکٹر حسن روحانی کے درمیان خفیہ مراسلت کی بابت خبر کے بارے میں جب وزیرخارجہ سے تصدیق چاہی گئی تو انہوں نے اس کی تصدیق یا تردید سے انکار کردیا، تاہم ان کے اس معنی خیز انکارسے بھی تصدیق کی بو آ رہی ہے۔

ایرانی وزیرخارجہ محمد جواد ظریف نے سوال کا گول مول سا جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ "زبانی نوعیت کے پیغامات کا جواب بھی عام پر طورپر زبانی یا کسی دوسرے طریقے سے ہوسکتا ہےمگر جب رابطہ علانیہ ہو رہا ہو تو اس کا جواب خفیہ نہیں ہوتا۔ ممکن ہے ہمارے اور امریکیوں کے درمیان رابطوں کے دوران کوئی ایسا پیغام آیا ہو اور اس کا مناسب جواب بھی دیا گیا ہو گا"۔

تہران میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران جب ایک نامہ نگار نے وزیرخارجہ سے پوچھا کہ"میرا سوال بالکل واضح ہے کہ کیا باراک اوباما اور حسن روحانی کے درمیان کوئی مراسلت ہوئی ہے؟ تو اس پر جواد ظریف نے کہا کہ "اس نوعیت کے معاملات کے کچھ سفارتی تقاضے ہوتے ہیں۔ عموما مَیں کوئی بات میڈیا سے چھپا کر نہیں رکھتا ہوں مگر ہر سوال کا جواب ضروری بھی نہیں ہوتا۔ فی الحال میں ایران، امریکا سربراہان کے مابین کسی تحریری رابطے کی نہ تصدیق کرتا ہوں اور نہ اس کی تردید کرتا ہوں"۔

خیال رہے کہ ایرانی ذرائع ابلاغ میں باراک اوباما اور حسن روحانی کے درمیان مراسلت کی خبریں مختلف ذرائع سے سامنے آئی ہیں۔ اس مراسلت کو گذشتہ ماہ سطلنت اومان کے خلیفہ سلطان قابوس اور امریکی سفارت کار جیفری فلٹمن کے دورہ تہران سے جوڑا جا رہا ہے۔

سلطان قابوس اس وقت تہران پہنچے تھے جب شام میں دمشق کے قریب مشرقی الغوطہ میں اعصاب شکن کیمیائی ہتھیاروں کے مبینہ استعمال سے سیکڑوں شہری جاں بحق ہوگئے تھے۔ امریکا اور اس کے عالمی اتحادی اس کارروائی کا الزام صدر بشارالاسد پر عائد کر دمشق کے خلاف چڑھائی کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

سلطان قابوس امریکا اور ایران کے درمیان شام کے معاملے پر کوئی ہم آہنگی پیدا کرنے گئے تھے تاہم انہیں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی جانب سے ٹکا سا جواب ملا کہ ان کا ملک بشارالاسد کے خلاف کارروائی کی حمایت نہیں کرے گا اور شام پرحملہ ہوا تویہ براہ راست ایران پرحملہ تصور کیا جائے گا۔ البتہ اصلاح پسند صدر حسن روحانی کا بیان قدرے مختلف تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ مشرقی الغوطہ میں کیمیائی ہتھیاروں سے حملہ سنگین جنگی جرم ہے، یہ جس نے بھی کیا ہے اسے سزا ملنی چاہیے۔