.

شامی حکومت کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی ذمہ دار ہے: یورپی یونین

سخت کارروائی اقوام متحدہ کے پراسس کے مطابق ہونی چاہیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی یونین کی خارجہ امور کے لیے سربراہ کیتھرائن آشٹن نے اتفاق کیا ہے کہ دستیاب اطلاعات کی بنیاد پر یہ شہادت سامنے آئی ہے کہ بشارالاسد رجیم نے ہی الغوطہ میں عام لوگوں کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ہیں۔

لتھوانیا میں یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا ''صرف شامی حکومت ہی کیمیائی ہتھیار اور انہیں استعمال کرنے کے ذرائع رکھتی ہے'' انہوں اس موقع پر بتایا وزرائے خارجہ نے اس چیز سے اتفاق کیا کہ دنیا اس معاملے الگ تھلگ نہیں رہ سکتی ہے، اس لیے ضرورت ہے کہ شام کو ایک واضح اور تکڑا جواب دیا جائے، تاکہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کو آئندہ روکا جا سکے۔''

جرمنی کے وزیر خارجہ گائیڈو ویسٹرویلی نے اس اہم اجلاس کے بعد بتایا کہ گروپ 20 کے دس ممالک کے ساتھ مل کر جرمنی ایک مشترکہ بیان پر دستخط کرے گا، جس میں شام کو سخت جواب دینے کا مطالبہ کیا جائے گا۔''

جرمن وزیر خارجہ کا کہنا تھا '' شام کے بارے میں یورپی یونین کی شاندار اور دانشمندانہ پوزیشن دیکھنے کے بعد جرمن چانسلر ایجلا مرکل اور میں نے فیصلہ کیا ہے کہ جرمنی اب جی 20 کی طرف سے شام کو جواب دینے کی حمایت کرے گا۔''

کیتھرائن آشٹن نے یورپی وزرائے خارجہ کے حوالے سے مزید بتایا '' اجلاس میں فرانس کے صدر کے اس موقف کا خیر مقدم کیا گیا ہے کہ کسی کارروائی سے پہلے اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کی رپورٹ کا انتظار کیا جائے۔'' انہوں نے کہا شام کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے اقوام متحدہ کا پراسس ہی اختیار کیا جانا چاہیے۔''