.

شام کے بارے میں آنکھیں موند نہیں سکتے ہیں: باراک اوباما

''فی الحال امریکی ایوان نمائندگان کے صرف 25 ارکان فوجی کارروائی کے حامی ''

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

صدر اوباما نے کہا ہے کہ'' شام میں جاری تصادم سے آنکھیں بند نہیں کر سکتے اور نہ ہی شام کے خلاف کارروائی نہ کرنا کوئی آپشن ہو سکتی ہے۔'' انہوں نے اس امر کا اظہار اپنے ہفتہ وار امرکی کانگریس کے ارکان کو شام میں فوجی کارروائی کے لیے قائل کرتے ہوئے کیا ہے۔

اوباما کا کہنا تھا '' ہم شام میں جو کچھ دیکھ چکے ہیں اس سے اپنی آنکھیں بند نہیں کر سکتے ہیں، اس لیے میں کانگریس کے دونوں جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان سے مل رہا ہوں، کہ اپنی آنے والی نسلوں کے مستقبل اور انہیں اپنی مرضی کی دنیا دینے کے لیے اکٹھے ہو جائیں اور کھڑے ہو جائیں۔''

امریکی کانگریس کے ارکان پیر کے روز چھٹیوں کے بعد واپس آرہے ہیں جبکہ منگل کے روز صدر اوباما امریکی عوام سے خطاب کرنے والے ہیں۔ امکانی طور پر وہ اپنے خطاب میں 21 اگست کو شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے خلاف عوام کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔

اوباما سمجھتے ہیں کہ جان مکین کی حمایت ملنے کے باوجود کانگریس کے دونوں ایوانوں کی حمایت حاصل کرنا ان کے لیے ایک کٹھن مرحلہ ہے۔ کیونکہ واشنگٹن پوسٹ کے ایک تازہ سروے کے مطابق ایوان نمائندگان کے موجودہ 433 ارکان میں سے 224 شام میں فوجی کارروائی کے تقریبا خلاف ہیں، 184 نے ابھی اس بارے میں کوئی واضح فیصلہ نہیں کیا ہے۔ اسطرح صرف 25 ارکان فوجی کارروائی کے کھلے حامی ہیں۔

اس صورتحال میں اوباما نے اپنے خطاب میں کہا '' یہ صرف انسانی عظمت پر حملہ نہیں اس سے ہماری قومی سلامتی کو بھی براہ راست خطرہ ہو گیا ہے، اگر ہم نے اس موقع پر یکجہتی کا مظاہرہ کیا اور مل کر کھڑے ہو گئے تو ہمارا ملک مضبوط ہو گا۔''