تیونس: حزب اختلاف کے مظاہرے، حکومت کے استعفے کا مطالبہ

مقتول اپوزیشن لیڈر کے چہلم کے موقع پر دارالحکومت میں ہزاروں افراد کی ریلی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

تیونس کے دارالحکومت تیونس میں ہزاروں افراد نے اسلامی جماعت النہضہ کی قیادت میں حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ہے اور اس سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کیا ہے۔

حکومت مخالف تیونسی شہریوں نے حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمان محمد ابراہیمی کے چہلم کے موقع پر دستور سازاسمبلی کے باہر ریلی نکالی اور حکومت کے خلاف سخت نعرے بازی کی۔ النہضہ کی حکومت کے خلاف گذشتہ کئی ہفتوں سے جاری احتجاجی تحریک کے دوران حزب اختلاف کا یہ سب سے بڑا احتجاجی مظاہرہ ہے۔

محمد ابراہیمی کو 25 جولائی کو دارالحکومت تیونس میں نامعلوم مسلح حملہ آوروں نے ان کے گھر کے باہر فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا۔ اس واقعہ کے بعد سے حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے جارہے ہیں۔ حزب اختلاف پہلے دستور سازاسمبلی کو برطرف کرنے کا مطالبہ کررہی تھی لیکن اب وہ حکومت سےمستعفی ہونے کا مطالبہ کررہی ہے.

اپوزیشن کا حکومت پر الزام ہے کہ وہ ملک میں امن وامان کے قیام اور قومی معیشت کی بحالی میں ناکام رہی ہے۔ محمد ابراہیمی کے قتل سے قبل فروری میں حزب اختلاف کے ایک اور لیڈر شکری بلعید کو بھی ان کی قیام گاہ کے باہر دن دہاڑے فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا تھا۔ تیونسی حکام نے سخت گیر سلفیوں پر ان کے قتل کا الزام عاید کیا تھا اور اس ضمن میں گذشتہ ہفتوں کے دوران بعض مشتبہ افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں