مصر:عمروموسیٰ دستور ساز پینل کے سربراہ مقرر

عبوری حکومت کے قائم کردہ پینل کا پہلا اجلاس، مجوزہ آئینی ترامیم کا جائزہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مصر کی عبوری حکومت نے سابق صدارتی امیدوار اور عرب لیگ کے سابق سیکرٹری جنرل عمرموسیٰ کو پچاس ارکان پر مشتمل دستور ساز پینل کا سربراہ مقرر کیا ہے۔

دستور ساز پینل کا آج اتوار کو قاہرہ میں پارلیمان کے ایوان بالا شوریٰ کونسل کی عمارت میں پہلا اجلاس ہوا ہے۔ سرکاری روزنامے الاہرام آن لائن کی رپورٹ کے مطابق وکلاء کے سینڈیکیٹ کے چئیرمین اور عرب ناصری جماعت کے سربراہ سامح آشور بھی دستور ساز پینل کی چئیرمین شپ کے لیے امیدوار تھے مگر عرب لیگ کے سابق سیکرٹری جنرل عمروموسیٰ کو نیا چئیرمین مقرر کردیا گیا ہے۔

قبل ازیں دس ارکان پر مشتمل قانونی پینل مصر کی برطرف منتخب حکومت کے دور میں مرتب کردہ دستور میں ترامیم کی سفارش کرچکا ہے۔ اس لیے اب پچاس رکنی پینل دوسرے مرحلے میں ان دستوری ترامیم کا جائزہ لے گا اور انھیں آئین میں سمونے کا کام کرے گا۔

مصر کے عبوری صدر نے 2 ستمبر کو آئین کی ازسرنو تدوین کے لیے پچاس ارکان پر مشتمل پینل قائم کیا تھا۔ مصری سکیورٹی فورسز کے عتاب کا شکار اخوان المسلمون نے نئی عبوری حکومت کے تحت آئین کی ازسرنو تدوین کے لیے فریق بننے سے انکار کردیا تھا۔ اس لیے اس کا کوئی نمائندہ اس پینل میں شامل نہیں اور اس میں زیادہ تر سیکولر شخصیات کو شامل کیا گیا ہے۔

اس میں اسلامی جماعتوں کی جانب سے سلفی تحریک کی حزب النور کو نمائندگی دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ جامعہ الازہر اور مسیحی چرچ کے نمائندے بھی پینل میں شامل ہیں۔ یہ پینل آیندہ ساٹھ روز (دوماہ) میں نظرثانی شدہ آئین کا حتمی مسودہ عبوری صدر عدلی منصور کو پیش کرے گا جو اس کے بعد تیس روز میں نئے آئین پر ریفرینڈم کا اعلان کریں گے۔

مسلح افواج کے ہاتھوں برطرف صدر محمد مرسی کی حکومت میں دستور ساز اسمبلی نے گذشتہ سال مصر کا نیا آئین مرتب کیا تھا اور اس میں قانون سازی کے ماخذ کے طور پر اسلامی دفعات شامل کی تھیں۔ اس آئین کی دسمبر2012ء میں عوامی ریفرینڈم میں منظوری دی گئی تھی لیکن مصر کے آزاد خیال طبقوں اور حکومت مخالفین نے اس آئین کو مسترد کردیا تھا اورانھوں نے تمام مصریوں کا نمائندہ نیا آئین مرتب کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں