.

القاعدہ دوبارہ طاقت پکڑ سکتی ہے: امریکی تھنک ٹینک کا انتباہ

النصرہ نے شام میں کارروائیاں بڑھا دیں، سماجی شعبے میں بھی متحرک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی تھنک ٹینک نے خبردار کیا ہے کہ '' کمزور پڑ جانے والی القاعدہ شام میں جاری بحران کی وجہ سے نئے سرے سے طاقت پکڑ سکتی ہے ۔''

تھنک ٹینک کی طرف سے اندرونی سلامتی کو درپیش خطرات کا جائزہ لینے کے لیے مرتب کردہ رپورٹ'' جہاد پسند دہشت گردوں '' میں کہا گیا ہے کہ القاعدہ کا مشرق وسطی کے لیے نیٹ ورک دوبارہ زندہ ہو سکتا ہے۔'' مزید کہا گیا ہے کہ ''یہ پیش گوئی جلد ہو گی کہ القاعدہ اور اس کے اتحادی گروپوں کی طرف سے لمبے عرصے کے لیے خطرات آنے والے ہیں، یہ گروپ ان دنوں ایک طرح سے عبوری دور سے گذر رہے ہیں، اس لیے ہو سکتا ہے کہ یہ بات ختم ہو جائے کہ یہ نیٹ ورک آخری سانس لے رہا ہے۔''

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شام کے صدر بشارالاسد کے خلاف لڑنے والوں میں النصرہ گروپ شامی حزب اختلاف کا ایک اہم اور مضبوط ترین حصہ ہے۔ رپورٹ مرتب کے شریک مصنف پیٹر برجن کا کہنا ہے " القاعدہ کسی حد تک ابھر اور ڈوب رہی ہے، ہم دنیا میں مختلف جگہوں پر دیکھ سکتے ہیں، کہ ایسی بہت سی جگہیں ہیں جہاں القاعدہ اچھی حالت میں نہیں لیکن شام میں واضح طور پر دیکھتے ہیں کہ اپنا'' کام'' کر رہی ہے ۔''

ایک عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق '' شام میں النصرہ فرنٹ نے وسیع پیمانے پر کارروائیاں شروع کر دی ہیں، عوامی حمایت حاصل کرنے اور اپنے دائرہ کار کو وسعت دینے کے لیے شام میں النصرہ کی طرف سے سماجی خدمات بھی پیش کی جا رہی ہے ، اس نوعیت کی سرگرمیاں القاعدہ سے جڑے ہوئے کسی گروپ کی جانب سے پہلی مرتبہ سامنے آئی ہیں۔''

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ شامی حزب اختلاف سے متعلق گروپ جہادیوں کے ہاتھوں میں اسلحہ بھی جانے دے رہی ہے ۔ دوسری جانب امریکی صدر اوباما اس کوشش میں ہیں کہ وہ امریکی قانون سازوں کو شام پر حملے کی اجازت دینے پر آمادہ کر سکیں۔ اوباما کی اس خواہش کا جائزہ امریکی کانگریس آج جائزہ لینے کا آغاز کرے گی۔