.

شام پر حملہ، معاملہ پھر سلامتی کونسل میں لایا جائے: چین

مسئلے کو فوجی نہیں سیاسی طریقوں سے حل کیا جائے: وزیر خارجہ چین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چین نے امریکا پر زور دیا ہے کہ شام کے خلاف کسی بھی کارروائی سے پہلے اقوام متحدہ سے دوبارہ رجوع کیا جائے۔ یہ بات چین کے وزیر خارجہ مسٹر وانگ کے حوالے اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکا نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ یو این او کی سلامتی کونسل سے اس سلسلے میں منظوری لینے کو تیار نہیں ہے۔

چین کے وزیر خارجہ وانگ یی کے نام سے چین کی وزارت خارجہ نے اپنی ویب سائٹ پر بیان جاری کیا ہے۔ اس سے پہلے یہ اطلاعات سامنے آچکی ہیں کہ امریکا اور فرانس شام کے خلاف فضائی کارروائی کرنے پر باہم متفق ہیں، تاکہ ایک ہزار سے زائد بے گناہ افراد کے کییائی ہتھیاروں سے مارے جانے کی سزا شام کو دی جا سکے۔

وانگ یی نے اپنے بیان میں امریکا اور فرانس دونوں پر زور دیا کہ سلامتی کونسل میں اتفاق رائے حاصل کرنے کے لیے دوبارہ رجوع کیا جائے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس حوالے سے امریکی وزیر خارجہ جان کیری سے فون پر بھی بات کی گئی ہے۔ چین کے وزیر خارجہ نے کہا '' چین اور امریکا کو مل کر اقوام متحدہ کے چارٹر پر عمل کے لیے قائدانہ کردار ادا کرنا چاہیے، تاکہ بین الاقوامی تعلقات کے حوالے سے بنیادی اقدار کی روشنی میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال روکا جا سکا۔

اس سے قبل جمعہ کے روز چین کے صدر نے گروپ 20 کے سر براہی اجلاس میں صدر اوباما سے صاف لفظوں میں کہا تھا '' شام میں فوجی کارروائی مسئلے کا حل نہیں ہو سکتی، اس تنازعے کا درست حل سیاسی طریقوں سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔''

چین اس سے پہلے بھی مسلسل اس بات پر زور دے رہا ہے کہ شام کے خلاف اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کی رپورٹ اور عالمی اتفاق رائے سامنے آنے کے بعد ہی کارروائی کی جائے۔