.

شام پر حملے سے چند گھنٹے قبل امریکا ہمیں آگاہ کر دے گا: اسرائیلی عہدیدار

صہیونی لابی کا شام پر حملے کی حمایت کے لیے کانگریس پر دباؤ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی حکومت کے ایک سینیئرعہدیدار نے کہا ہے کہ شام پر حملے سے چند گھنٹے قبل امریکا، تل ابیب کو کارروائی کے بارے میں آگاہ کر دے گا۔ اسرائیلی عہدیدار نے یہ دعویٰ ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب صہیونی حکومت شام پر متوقع حملے کے پیش نظر اپنی دفاعی تیاریوں میں مصروف ہے۔ ان دفاعی انتظامات سے بادی النظر میں ایسے لگ رہا ہے کہ خود اسرائیل کو بھی شام پر حملے کی کوئی پیشگی وارننگ موصول نہیں ہو گی۔

امریکا، اسرائیل مواصلاتی رابطوں سے باخبر ایک عہدیدار نے برطانوی خبر رساں ادارے "رائٹیرز" کو بتایا کہ "واشنگٹن شام پر حملے کی وارننگ ہمیں کارروائی شروع ہونے کے چند گھنٹے قبل دے دے گا"۔

حکومتی عہدیدار کے دعوے کے برعکس اسرائیل کےایک دفاعی تجزیہ نگار"عاموس گیلاد" کا کہنا ہے کہ امریکی حملے کے بارے میں اسرائیل کے پاس بھی اتنی ہی معلومات ہوں گی جتنی کہ کسی دوسرے ملک کے پاس ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرا نہیں خیال کہ امریکا اسرائیل کوکوئی ایسی اہم ترین پیشگی اطلاع فراہم کر سکتا ہے۔

مسٹر گیلاد نے تل ابیب میں قائم انٹرنیشنل انسٹییٹوٹ برائے انسداد دہشت گردی" کے زیراہتمام ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "ابھی تک تو یہ بھی واضح نہیں کہ امریکا شام پرحملہ کرے یا نہیں؟ اگر حملہ کرے گا تو اس کے کیا نتائج سامنے آئیں گے؟ ان تمام سوالوں کے جواب پردہ راز میں ہے۔

صہیونی لابی کا امریکی کانگریس پردباؤ

شام میں کیمیائی حملوں کے ردعمل میں صدر براک اوباما کے بشارالاسد کو سزا دینے سے متعلق موقف میں انہیں امریکا میں اسرائیل نواز یہودی لابی کی بھی حمایت حاصل ہے۔

امریکا میں اسرائیل کی حمایت کرنے والی تنظیم "آئی پیک" نے امریکی کانگریس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شام پر حملے کے حوالے سے براک اوباما کے موقف کی حمایت کرے۔ اپیک کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ شام پر اسی ہفتے حملہ ہو جانا چاہیے اور یہ فیصلہ کانگریس کو کرنا ہے جسے مزید تاخیر سے کام نہیں لینا چاہیے۔


خیال رہے کہ ایک جانب امریکا اور دنیا بھر میں اسرائیل نواز لابی شام پر حملے کی حمایت کر رہی ہے دوسری جانب اسرائیل کے بعض عہدیداروں نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ امریکا نے بشار الاسد کے خلاف فوج کشی کی تو اس کے ردعمل میں ایران اپنی جوہری سرگرمیاں تیز کر سکتا ہے۔ یوں شام پرغیرملکی فوجی کارروائی کی صورت میں ایران کے جوہری پروگرام کے خاتمے کے لیے عالمی مساعی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

کچھ اسی طرح کی خیالات کا اظہار اسرائیلی تجزیہ نگارعاموس گیلاد نے بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ چاہےعالمی سطح پر ایسی کارروائی کی کتنی زیادہ حمایت کی جائے میں یہ خبردار کروں گا کہ ایران کے ممکنہ خطرات کو نظر انداز کر کے کوئی بھی قدم اٹھایا گیا تو اس کے نتائج تباہ کن ہو سکتے ہیں۔