.

قوم نے مجبور کیا تو صدارتی انتخابات میں حصہ ضرور لوں گا: احمد شفیق

جنرل الفتاح السیسی کی حمایت کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں ایک سال قبل صدارتی انتخابات میں ڈاکٹر محمد مرسی کے ہاتھوں شکست کھانے والے متنازعہ سیاست دان احمد شفیق نے کہا ہے کہ قوم نے ذمہ داری سونپی تو پیش آئند صدارتی انتخابات میں حصہ ضرور لوں گا۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے ذاتی طور پر صداتی انتخابات لڑنے کا کوئی شوق نہیں ہے۔ اگرمسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی صدارتی انتخابات میں حصہ لینا چاہئیں گے تو میں ان کی حمایت کروں گا۔

مصر کے "ڈریم" ٹیلی ویژن چینل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ جنرل عبدالفتاح السیسی نے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا تو میں ان کی حمایت کرنے والوں میں ہوں گا۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کی دوڑ میں شامل ہونے کے وقت میں جنرل السیسی سے صرف یہ کہوں گا کہ میں "آپ سے پہلے مستعفیٰ" ہوچکا ہوں۔

مصر میں تین جولائی کے فوجی ایکشن کے بعد قاہرہ کے قریب رابعہ العدیہ گراؤنڈ میں اخوان المسلمون کے دھرنے بہ زور ختم کیے جانے سے متعلق سوال پراحمد شفیق نے کہا کہ "وہ لوگ [مظاہرین] مسلح تھے اور ریاستی اداروں پر حملے کر رہے تھے۔ انہیں پرامن طور پر منتشرہونے کا پورا موقع فراہم کیا گیا، لیکن وہ منتشر نہیں ہوئے چنانچہ فوج کو ملک کو تباہی سے بچانے کے لیے گولی چلانا پڑی۔"

سابق وزیر داخلہ کے ساتھ ہونے والی اپنی ٹیلیفونک گفتگو کے بارے میں احمد شفیق نے کہا کہ میں نے معزول صدر محمد مرسی کے وزیرداخلہ کے شہریوں کے حوالے سے اندازبیان پرتنقید کی تھی۔ میں نے ان سے کہا تھا کہ پولیس کو اخوان کے خلاف عوام کے جذبات کی طرف داری کرنی چاہیے۔ میری یہ گفتگو نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کے وائس چیئرمین میجر جنرل احمد عبدالجواد نے ریکارڈ کر کے صدرمرسی اور اخوان المسلمون کے نائب مرشد عام خیرت الشاطر تک پہنچائی۔ جس کے بعد صدر نے جنرل عبدالجواد کو تیس جون کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔

ایک دوسرے سوال کے جواب میں سابق صدارتی امیدوار احمد شفیق نے کہا کہ سنہ 2012ء میں جب صدارتی انتخابات کی دوڑ شروع ہوئی تو میں نے اس وقت کے ملٹری چیف فیلڈ مارشل [ریٹائرڈ] محمد حسین طنطاوی کو مشورہ دیا تھا کہ چاہے کوئی بھی امیدوار کامیاب ہو فوج کو سال ڈیڑھ سال تک اختیارات اپنے پاس ہی رکھنے چاہئیں۔

انہوں نے بتایا کہ جب اخوان المسلمون کے امیدوار محمد مرسی کامیاب ہوکر صدر بن گئے تو میں نے جنرل طنطاوی سے کہا کہ وہ وزارت دفاع کا عہدہ چھوڑ دیں کیونکہ اب ہم پر"بچے حکومت" کرنے لگے ہیں۔ ایسی حکومت کے ساتھ کام کرنا باعث توہین ہے۔ احمد شفیق نے کہا کہ اگرمیں صدر بن جاتا تو جنرل طنطناوی آج بھی وزیردفاع ہوتے۔