.

مصر: دیہاتیوں نے یورپی’’جاسوس‘‘ بگلا پکا کھایا!

یورپی پرندے کے ساتھ سراغ لگانے کا آلہ لگا ہوا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالم مشرق میں گزرے وقتوں میں سدھائے ہوئے کبوتروں کو پیغام رسانی کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ عاشق مزاج لوگ انہی کبوتروں کو اپنے محبوب تک پیغام محبت پہنچانے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ اب مصر سے یہ اطلاع سامنے آئی ہے کہ وہاں ایک بگلا جاسوسی کے شُبے میں پکڑا گیا مگراسے دیہاتیوں نے پکا کھایا ہے۔

مصری پولیس نے گذشتہ ہفتے اس بگلے (سارس) کو جاسوسی کے شبے میں پکڑ لیا تھا۔ اس سفید پرندے کو قاہرہ کے جنوب مشرق میں واقع گورنری قنا میں ایک مقامی شہری نے پکڑا تھا اور پھر پولیس کے حوالے کردیا تھا۔ اسے یہ شبہ ہوا تھا کہ یہ تو یورپی پرندہ لگ رہا ہے اور اس کا مصر میں کیا کام؟

اس کو پکڑ کردیکھا گیا تو اس کے ساتھ ایک ٹریکرآلہ لگا ہوا تھا۔ برطانوی روزنامے گارجین کی رپورٹ کے مطابق مصر کے محکمہ تحفظ جنگلی حیات نے اس بگلے کو مینس کا نام دیا تھا۔ اس کو جنگلی حیات کے لیے محفوظ ایک علاقے میں چھوڑا گیا تھا لیکن وہ اڑ کر دریائے نیل کے ایک جزیرے کی جانب چلا گیا جہاں اس کو دیہاتیوں نے پکڑ لیا اور پھر اس کو پکا کھایا۔

مصر کے محکمہ تحفظ جنگی حیات نے اپنے فیس بُک صفحے پر لکھا ہے کہ ’’بگلے دریائے نیل اور صحارا کے علاقے میں رہنے والے باشندے ہزاروں سال سے خوراک کے طور پر کھاتے چلے آ رہے ہیں۔ اس لیے اس بگلے کا کھایا جانا کوئی منفرد فعل نہیں ہے۔ تاہم اس کی مختصر زندگی کی یہ کامیاب کہانی ناکافی ہے کہ اس کو مصر سے باہر جانے تک رہا کرالیا گیا تھا‘‘۔ تاہم مصری حکام نے یہ نہیں بتایا کہ یہ بگلہ کس ملک یا ادارے کے لیے جاسوسی کررہا تھا۔