.

بشارالاسد نے کیمیائی حملے کا حکم دینے کا دعویٰ مسترد کردیا

میں نے اپنے ہی لوگوں کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال نہیں کیے: انٹرویو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی صدر بشارالاسد نے ان دعوؤں کو مسترد کردیا ہے جن میں کہا گیا ہے کہ انھوں نے 21 اگست کو دمشق کے نواحی علاقے غوطہ میں کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کا حکم دیا تھا۔

انھوں نے امریکی ٹی وی چینل سی بی ایس نیوز کے ساتھ انٹرویو میں کہا کہ ''اس بات کا کوئی حتمی ثبوت نہیں ہے کہ میں نے اپنے ہی لوگوں کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کیے تھے''۔

انھوں نے امریکی اور یورپی دعووں کے برعکس کہا کہ ''دمشق کے نواحی علاقے غوطہ میں کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کا کوئی حتمی ثبوت نہیں ہے''۔ انھوں نے اس بات سے بھی انکارکیا کہ ان کا اس حملے سے کوئی تعلق ہے۔

سی بی ایس کے نمائندے چارلی روز کے ساتھ شامی صدر کا یہ انٹرویو سوموار کو امریکا میں نشر کیا جارہا ہے۔ واضح رہے کہ امریکا اور یورپی یونین نے بشارالاسد کی حکومت پر کیمیائی حملے کا الزام عاید کیا ہے اور وہ اس حملے سے متاثرہ افراد کے نمونے اور مرنے والوں کی ہولناک تصاویر اور ویڈیوز بھی منظرعام پر لائے ہیں لیکن شامی صدر نے ایک مرتبہ پھر ان تمام دعووں کو مسترد کردیا ہے۔