اردن کی پارلیمنٹ میں تلخ کلامی، ایک دوسرے پر جوتا باری پر منتج

گالم گلوچ سے منتخب ایوان مچھلی منڈی بن گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

دنیا کے مختلف ملکوں میں سب سے معتبرسمجھے جانے والے قانون ساز اداروں [پارلیمان] کے اراکین کے درمیان تلخ کلامی کی روایت کچھ زیادہ ہی زور پکڑتی جا رہی ہے۔ برداشت، جمہوریت اور روا داری کا درس دینے والے بعض اوقات خود بھی ان اخلاقی روایات سے بالکل عاری ہو جاتے ہیں۔

قانون سازوں کے درمیان لڑائی کا حالیہ واقعہ اردنی پارلیمنٹ میں پیش آیا جہاں اراکین نے ایک دوسرے کے خلاف اپنے جوتے اور بلیٹیں اتار لیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایوان میں پارلیمنٹ سے متعلق امور پرحکومتی نظم و نسق کے بارے میں بحث جاری تھی۔ بحث کے دوران تین ارکان آپس میں اتنے الجھے کہ الزام تراشی سے بات بڑھ کرگالم گلوچ تک پہنچی حتی کہ تینوں نے ایک دوسرے کو جوتے دکھائے اور بلیٹیں اتار کرحملے کی بھی کوشش کی۔ اجلاس میں ہونے والی اس بدمزگی کے بعد اسپیکر کو اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کرنا پڑا۔

تفصیلات کے مطابق پارلیمنٹ کےاجلاس میں بحث میں حصہ لیتے ہوئے رکن پارلیمان یحییٰ سعود اور قصیٰ الدمیسی آپس میں الجھ پڑے۔ دونوں نے ایک دوسرے پر خوب تبری کیا اور پھر بات نوبت گالم گلوچ تک جا پہنچی۔ معاملے کو رفع دفع کرنے کے لیے دوسرے رکن پارلیمنٹ طلال الشریف کھڑے ہوئے لیکن انہوں نے بھی یحیٰٰ السعودی کی طرف داری شروع کردی۔ اس پرمعاملہ مزید بگڑ گیا اور پارلیمنٹ کے اسپیکر سعد ھائل السرور نے اجلاس کی کارروائی روک دی بعد ازاں اسے غیرمعینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں