تہران: صدرحسن روحانی اور کابینہ فیس بک پر آ گئے

ٹوئٹر کے ذریعے یہودیوں کو سال نو کی مبارک باد بھی دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران میں نئے صدر حسن روحانی کے آنے کے بعد حکومتی سطح پر سوشل میڈیا اور عمومی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے حیران کن واقعات سامنے آرہے ہیں، جن سے نظر آ رہا ہے کہ ایران کی سخت مٹھی کو نرم کیے جانے کی پالیسی رو بعمل ہے۔

ایرانی صدر حسن روحانی اور ان کی کابینہ نے اپنے سیاسی ایجنڈے کے فروغ کے لیے نئے محاذ پر متحرک ہونے کا اشارہ فیس بک اکاونٹس کا آغاز کر کے دیا ہے۔ فیس بک کا یہ صفحہ صرف وہ لوگ دیکھ سکیں گے ، جن کے پاس انٹر نیٹ پر لگائے گئے فلٹر بریک کرنے کی سہولت ہو گی۔ کیونکہ ایران کے ذرائع ابلاغ پر سنسر سے متعلق سخت قوانین کے اطلاق کے باعث بہت ساری سائٹس بند کی جا چکی ہیں۔

توقع کی جا رہی ہے کہ حسن روحانی کی حکومت کی طرف سے یہ پیش رفت نئے دور کی نقیب ثابت ہو گی۔ حسن روحانی کی وجہ سے ایران میں سوشل میڈیا کے حوالے سے کھلے پن کا دور شروع ہو گا۔ خصوصا اعلی حکام کی جانب سے بھیجے گئے پیغامات اس کی راہ ہموار کریں گے۔

نئے ایرانی صدر حسن روحانی نے گزشتہ ہفتے اپنے ٹوئٹر اکاونٹ کے ذریعے میڈیا کو اس وقت ہلا کر رکھ دیا تھا جب ان کی طرف سے یہودیوں کو ان کے نئے سال کی مبارکباد کا پیغام بھیجا گیا۔ یہ احمدی نژاد حکومت دور کی سام مخالفت میں ایک رخنے کا باعث بنا۔

اب تک صدر روحانی کے فیس بک کے صفحے پر 70000 افراد نے پسندیدگی کا اظہار کیا ہے ۔ جبکہ اس کے مقابلے میں ایرانی حکومت کے صفحے کو صرف تین ہزار افراد نے پسند کیا ہے۔

ایران میں سوشل میں پر 2009 میں اس وقت پابندی لگائی گئی تھی جب احمدی نژاد کے دوسری بار انتخاب کی کوشش ہو رہی تھی اور احمدی مخالفین سوشل میڈیا کے ذریعے مظاہروں کو منظم کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں