روسی تجویز سے شام میں خونریزی ختم نہیں ہوگی: جی سی سی

خلیجی ریاستیں باغیوں کی حمایت کی بنیاد پر خطرات کا مقابلہ کرنے کو تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

خلیجی عرب ریاستوں پر مشتمل خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو بین الاقوامی کنٹرول میں دینے سے متعلق پیش کردہ تجویز پرعمل درآمد سے خانہ جنگی کا شکار ملک میں جاری خونریزی ختم نہیں ہوگی۔

جی سی سی کے موجودہ صدر ملک بحرین کے وزیرخارجہ شیخ خالد بن احمد الخلیفہ نے منگل کو جدہ میں نیوز کانفرنس میں کہا کہ ’’ہم نے اس تجویز(اقدام) کے بارے میں سنا ہے یہ تمام تر کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق ہے لیکن اس سے شامی عوام کا بہنے والا خون تو بند نہیں ہوگا‘‘۔

واضح رہے کہ خلیج تعاون کونسل میں شامل چھے عرب ممالک شامی صدر بشارالاسد سے برسر پیکار حزب اختلاف اوران کی فورسز کے خلاف محاذٓ آراء باغی جنگجوؤں کے سب سے بڑے حامی ہیں اور وہ بشارالاسد کے اقتدار کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ اس کے لیے وہ امریکا کی ممکنہ فوجی کارروائی کی بھی حمایت کررہے ہیں۔ اسی لیے انھوں نے روسی وزیر خارجہ کی شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو بین الاقوامی کنٹرول میں دینے کی تجویز کی مخالفت کی ہے۔

جی سی سی کے وزرائے خارجہ کا کہنا ہے کہ ان کی ریاستیں باغیوں کی حمایت کی بنیاد پر اپنے خلاف کسی بھی خطرے کا مقابلہ کرنے کو تیار ہیں۔

روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف نے گذشتہ روز شام پر زور دیا تھا کہ وہ فوجی حملوں سے بچنے کے لیے اپنے کیمیائی ہتھیاروں کو بین الاقوامی کنٹرول میں دے دے۔

سرگئی لاروف نے یہ مطالبہ شامی وزیرخارجہ ولید المعلم کے ساتھ ماسکو میں سوموار کو ملاقات کے دوران کیا تھا اور اس کے ساتھ اس توقع کا اظہار کیا تھا کہ شام اس تجویز کا فوری اور مثبت جواب دے گا۔ انھوں نے کہا کہ ’’اس منصوبے پر عمل درآمد سے ان فوجی حملوں کو ٹالنے میں مدد ملے گی جن کی امریکا اور اس کے اتحادی باتیں کررہے ہیں‘‘۔

ان کے اس بیان سے چندے قبل امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے اعلان کیا تھا کہ اگر شامی صدر بشارالاسد ایک ہفتے کے اندر اپنے تمام کیمیائی ہتھیاروں سے دستبردار ہوجاتے ہیں تو وہ امریکا کے فوجی حملے سے بچ سکتے ہیں۔

امریکی صدر براک اوباما نے روس کی جانب سے شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو بین الاقوامی کنٹرول کے تحت دینے کی تجویز کو مثبت پیش رفت قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اس کو سنجیدگی سے لیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں