عراق اور افغانستان کے بعد، امریکی شام میں جنگ کیخلاف

حملہ نہ کیا تو ایران جوہری اسلحہ بنا لے گا: سابق مشیر ڈیننس راس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی صدر باراک اوباما کے سابق سفیر برائے مشرق وسطی ڈینس راس نے خبردار کیا ہے کہ شام کے خلاف فوجی کارروائی میں ناکامی سے ایران کی سخت گیر حکومت کا جوہری اسلحہ بنانے کے حوالے سے حوصلہ بڑھ جائے گا۔ جبکہ اسرائیل امریکا کو ایران کے ساتھ جنگ کی طرف کھینچ لے جائے گا۔

سابق مشیر نے اپنے ان خیالات کا اظہار اپنے تازہ تجزیے میں کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عراق اور افغانستان کی جنگوں کے تجربے کے بعد امریکی قوم مشرق وسطی میں مزید کسی جنگ یا امریکا کی فوجی انوالومنٹ سے دور رہنا چاہتی ہے۔ اس لیے قانون ساز اسی وجہ سے شام کے خلاف کسی فوجی کارروائی کے حق میں نہیں ہیں۔

سابق مشیر کا کہنا ہے کہ ''امریکی قانون سازوں کو ایک پریشانی یہ بھی ہے کہ شام کے خلاف کارروائی کی بہت زیادہ لاگت امریکی عوام کو بھگتنا پڑے گی۔ ان کے مطابق کانگریس کے ارکان کی یہ فکر مندی قابل فہم ہے، لیکن کسی کارروائی کے نہ کرنے سے بھی لاگت کم نہیں ہو گی۔ اس لیے شام کے خلاف کارروائی کا راستہ روکا گیا تو ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے امریکا کی کوئی سفارتی کوشش کامیا ب نہ ہو سکے گی۔

اس صورت میں ایران کے سخت گیر عناصر اور ایران کے سپریم قائد کے قریبی عناصر یہ دعوی کر سکیں گے کہ ''جوہری اسلحے کی معاشی قیمت تو ہے مگر پھر کوئی فوجی خطرہ نہ ہو گا۔ '' ایران کے جوہری اسلحہ حاصل کر لینے کے بعد امریکا تو ایران کے ساتھ بقائے باہمی کے تحت رہنے کا سوچ سکتا ہے لیکن اسرائیل کے لیے ایسا برداشت کرنا ممکن نہ ہو گا۔

سابق امریکی مشیر کے مطابق ان حالات میں ایران اسرائیل پر حملہ کر سکتا اور یہ چیز امریکا کے لیے مشکل ہو گی کہ وہ ایران کے اسرائیل پر حملے کو نظر انداز کر سکے۔ اس لیے یہ قیمت ادا کرنا شام کے خلاف کارروائی سے مہنگی نہ ہو گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں