عراق: دوسرے بڑے شہر موصل کے ہوائی اڈے کی بندش

وزیراعظم نوری المالکی کا کسی وضاحت کے بغیر ہوائی اڈا بند کرنے کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل میں حکومت نے کسی وضاحت کے بغیر بین الاقوامی ہوائی اڈے کو بند کردیا ہے اور تمام پروازوں کو گراؤنڈ کرنے کا حکم دیا ہے۔

ہوائی اڈے کی بندش سے موصل سے اردن، متحدہ عرب امارات اور ترکی جانے اور وہاں سے آنے والی پروازیں منسوخ کردی گئی ہیں اور موصل اور دارالحکومت بغداد کے درمیان پروازیں متاثر ہوئی ہیں۔

ہوائی اڈے پر موجود ایک ذریعے نے بتایا ہے کہ ’’سکیورٹی فورسز نے کوئی وجہ بتائے بغیر موصل ائیرپورٹ کو بند کردیا ہے اور تمام پروازیں منسوخ کردی گئی ہیں‘‘۔

ایک سکیورٹی ذریعے نے برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز کو بتایا کہ ’’ابتدا میں حکام نے یہ کہا کہ ایک طیارے کو ہائی جیک کیے جانے کی اطلاع ہے۔ پھر انھوں نے کہا کہ ہوائی اڈے کو مرمت کے لیے بند کیا گیا ہے لیکن وہاں مرمت کا کوئی کام نہیں ہو رہا تھا‘‘۔

اس سکیورٹی ذریعے کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نوری المالکی نے ہوائی اڈے کو بند کرنے کا حکم دیا ہے لیکن ان کے دفتر میں اس اطلاع پر تبصرہ کرنے کے لیے کوئی بھی عہدے دار دستیاب نہیں تھا۔

بتایا جاتا ہے کہ نوری المالکی اور موصل کے گورنر عثیل النجیفی کے درمیان شدید اختلافات پائے جاتے ہیں اور حالیہ برسوں کے دوران متعدد محاذوں پر ان کے درمیان چپقلش ہوچکی ہے۔ گورنر نجیفی نے عراق کی سنی اقلیت کی وزیراعظم المالکی کی قیادت میں اہل تشیع کی بالادستی والی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہروں کی حمایت کی تھی۔ انھوں نے رائیٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ہم ہوائی اڈے کی بندش کو مسترد کرتے ہیں۔ اس سے شہر کا دوسرے ممالک کے ساتھ رابطہ قائم تھا‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں