مصر: تمرد تحریک کے بانی قاتلانہ حملے میں بال بال بچ گئے

محمد بدر نامزد دستور ساز پینل کے اجلاس سے آ رہے تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر کے جمہوری طور پر منتخب صدرڈاکٹر محمد مرسی کے اقتدار کے خلاف چلائی جانے والی تمرد تحریک کے بانی اور عبوری صدر عدلی منصور کے نامزد کردہ پچاس رکنی دستور ساز پینل کے رکن محمد بدر مبینہ قاتلانہ حملے میں بال بال بچ گئے ہیں ۔

اس سے چند دن قبل عبوری وزیر داخلہ محمد ابراہیم کو ایک کار بم دھماکے سے ہلاک کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ بعد ازاں جزیرہ نما سیناء سے تعلق رکھنے والے جہادی گروپ نے اس کار بم دھماکے کی ذمہ داری قبول کر لی تھی ۔

''العربیہ'' کے نمائندے کے مطابق محمد بدر پر قاتلانہ حملہ اس وقت کرنے کی کوشش کی گئی جب وہ عبوری حکومت کے ْقائم کردہ پچاس رکنی دستور ساز پینل کے اجلاس میں شرکت کے بعد واپس جا رہے تھے۔ تمرد تحریک نے اپنی ویب سائت پر جاری کردہ بیان میں لکھا ہے کہ بندوق بردار نے اچانک ان کی کار پر فائرنگ شروع کر دی لیکن وہ مکمل طور پر محفوظ رہے ہیں۔

محمد بدر اس سے پہلے یہ بات کہہ چکے ہیں کہ انہیں دھمکیا ں مل رہی ہیں اور یہ کہا جا رہا ہے کہ وہ اپنی رہائش تبدیل کر کے کسی نامعلوم جگہ پر چلے جائیں۔

چند دن پہلے وزیر داخلہ پر حملہ ہوا تو مبینہ طور پر القاعدہ سے منسلک ایک جہادی گروپ نے ذمہ داری قبول کر لی تھی ، تاہم اس واقعے کی ابھی تک کسی گروپ نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ واضح رہے تمرد تحریک کے بانی محمد بدر ان دنوں عبوری حکومت کے لیے غیر معمولی تقویت کا ذریعہ ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں