ترکی: انطاکیہ میں ایک نوجوان ہلاک، صورتحال کشیدہ

ایردوآن حکومت مخالف مظاہروں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ترکی میں ایردوآن حکومت کے خلاف تازہ مظاہروں کے دوران جنوبی ترکی کے سرحدی شہر انطاکیہ میں ایک 22 سالہ نوجوان پولیس کے ساتھ جھڑپ کے نتیجے میں ہلاک ہوگیا ہے۔ بائیس سالہ نوجوان ماہ جون کے دوران ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کے دوران زخمی ہو کر کومے میں چلے جانے والے 14 سالہ لڑکے برکن ایلوان کے ساتھ اظہار یکجہتی اور حکومت کے خلاف مظاہرے میں شریک تھا۔

برکن ایلوان ماہ جون میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کے دوران اپنے گھر سے نکل کر بیکری سے روٹی لینے کے لیے جا رہا تھا کہ اسی دوران مظاہرین اور پولیس کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کی زد میں آگیا اور زخمی ہو کر ہسپتال پہنچ گیا۔

خبررساں ادارے کے مطابق شامی سرحد کے قریب واقع جنوب مشرقی شہر انطاکیہ میں برکن کے حق میں احتجاج ہو رہا تھا کہ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جاری جھڑپ شروع ہو گئی۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے شیل پھینکے۔ جن میں سے ایک شیل بائیس سالہ نوجوان کے سر میں لگا اور وہ موت کے منہ میں چلا گیا۔

اس کے علاوہ استنبول شہر میں بھی مظاہرین اور پولیس کے درمیان تصادم کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ مظاہرین جن میں اکثریت انتہائی بائیں بازو کی جماعتوں کے ارکان کی بتائی گئی ہے، اپنی شناخت چھپانے کے لیے چہروں پر نقاب اوڑھے ہوئے تھے۔ انہوں نے پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں پر پتھرائو کیا اور ان پر پٹرول بم بھی پھینکے بعد ازاں مظاہرین نے سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کر کے ناکہ بندی کردی۔

ترکی کے وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن کی حکومت کے خلاف جون میں ہونے والے مظاہروں کے بعد پورے ملک میں وقتاً فوقتاً مظاہرے ہوتے رہے ہیں۔ ڈاکٹروں کی تنطیم کے مطابق استنبول کے گیزی پارک پر عثمانیہ دور کی یادگار کی مجوزہ تعمیر پر شروع ہونے والے مظاہروں پر ایردوآان حکومت نے طاقت کا استعمال کیا تھا جس کے نتیجے میں تین ہفتوں کے دوران پانچ افراد ہلاک اور 8000 زخمی ہوگئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں