.

ایرانی جوہری تنازعہ کا فیصلہ، وقت لا محدود نہیں: روحانی

رواں ماہ اہم ملکوں کے وزرائے خارجہ سے ملاقات پر تیار ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے نئے صدر حسن روحانی نے عالمی طاقتوں کو خبردار کیا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کا تنازعہ طے کرنے کے لیے وقت محدود ہے۔ یہ بات ایرانی صدر نے ریاستی ٹیلی ویژن کو دیے گئے انٹرویو میں کہی ہے۔

ایرانی صدر کا کہنا تھا '' ایرانی عوام نے حالیہ صدارتی انتخابات کے دوران عالمی برادری کو جوہری تنازعہ طے کرنے کا جو موقع فراہم کیا ہے اس کے لیے لامحدود وقت نہیں ہے ، لہذا عالمی برادری کو اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے، ہم خود بھی اس موقع کو بروئے کار لانا چاہیں گے اور اللہ نے چاہا تو ہم اس مسئلے کو مرحلہ وار انداز میں حل کر لیں گے۔''

حسن روحانی نے اس موقع پر یہ بھی کہا رواں ماہ کے دوران اقوام متحدہ کی جنرل کونسل کے اجلاس کے موقع پر وہ اس سلسلے میں عالمی طاقتوں کے وزرائے خارجہ سے بھی ملاقات کے لیے تیار ہیں ۔ ان وزرائے خارجہ میں سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان کے ساتھ جرمنی کے وزیر خارجہ بھی شامل ہوں گے۔

ایرانی صدر نے کہا'' اس جوہری تنازعہ کو طے کرنے کے لیے خود فتح مند ہونے اور دوسرے کو شکست دینے کے بجائے معاملے کو خوش اسلوبی کے ساتھ انجام تک پہنچانے کے لیے '' ون ون پوزیشن'' کے ماحول میں طے کرنا چاہیے ۔'' انہوں نے کہا جیت اور ہار کی باتیں بے معنی ہیں۔''

ایران حال ہی میں دنیا کی چھ بڑی طاقتوں کے ساتھ اس اہم تنازعے پر مذاکرات کر رہا ہے تاہم یہ مزاکرات ابھی تک نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئے ہیں۔

مغربی ممالک ایران کی طرف سے یورینیم کی افزودگی پر تشویش رکھتے ہیں، انہیں خوف ہے کہ ایران اس افزودگی کو جوہری اسلحے کی تیاری کے لیے استعمال کرے گا ۔ دوسری طرف ایران بارہا یہ کہہ چکا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام خالصتا پر امن مقاصد اور توانائی کی ضرورتوں کے لیے ہے۔

ایرانی صدر ان دنوں اپنے ملک کی جوہری، خارجہ اور داخلہ پالیسیوں کے لیے نئی ٹیموں کی تشکیل میں مصروف ہیں۔ ان کے سامنے''نظریاتی ہٹ دھرمی '' کا سبق بھی موجود ہے۔ وہ اس سے پہلے ایران کی خارجی اور داخلی پالیسیوں کو اعتدال پر لانے کا وعدہ بھی کر چکے ہیں۔