.

بم پھوڑوں یا نہ پھوڑوں؟ اوباما کی شام پر حملے کی دھمکی مذاق بن گئی

شامی شہری انٹرنیٹ اور موبائل فونز پر امریکی صدر کا مضحکہ اڑا رہے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر براک اوباما کی شام پر حملے کی دھمکی اب ایک مذاق بن کررہ گئی ہے اور شامی اپنے خاکوں ،مختصر تحریروں اور لطائف میں اس کا بھرپور ٹھٹھا اڑا رہے ہیں۔

ایک شامی مصور نے امریکی صدر کا ایک خاکہ بنایا ہے جس میں وہ پھول کی پتیوں کو پکڑتے ہوئے مسکرا رہے اور کہہ رہے ہیں: ’’کیا مجھے بم پھوڑنا چاہیے یا نہیں پھوڑنا چاہیے‘‘۔ ایک ہفتہ قبل تک تو ایسے نظر آٓرہا تھا کہ امریکی صدر بس شامی صدر بشارالاسد کی حکومت پر حملہ آور ہوا ہی چاہتے ہیں لیکن اب اس حملے کے امکانات معدوم نظر آرہے ہیں۔

اس پر شام میں جاری خانہ جنگی کے دونوں فریق ہی امریکی صدر کا مضحکہ اڑا رہے ہیں۔ وہ موبائل فونز اور انٹرنیٹ کے ذریعے اس حوالے سے لطائف اور خاکوں کا تبادلہ کررہے ہیں۔ ایک شامی نے فیس بُک پر صدر اوباما کی ایک تصویر پوسٹ کی ہے جس کے نیچے کیپشن یہ لکھا ہے: ’’جب کانگریس مجھے حملے کے لیے سبز اشارہ دے دے گی تو میں اپنی اہلیہ مشعل اور سسرالیوں سے پوچھوں گا اور اگر انھوں نے کہہ دیا کہ سب ٹھیک ہے تو پھر میں آگے بڑھوں گا‘‘۔

شامی صدر بشارالاسد کے ایک مخالف نے لکھا ہے: ’’وہ براک اوباما کے خلاف جھوٹی خبریں پھیلانے اور نقض امن پر قانونی چارہ جوئی کرنا چاہتا ہے‘‘۔ کیونکہ انھوں نے دس روز قبل حملہ کرنے کا اعلان کیا تھا اور پھر کچھ نہیں ہوا۔

فیس بُک پر بشارالاسد کے مخالفین کے صفحات پر ایک چبھتے ہوئے سنگین مذاق کا بڑا تبادلہ کیا جارہا ہے۔ اس میں لکھا ہے کہ ’’جناب صدر! آپ درست ہیں۔ ہمیں تین سال اور انتظار کرنا چاہیے تاکہ تمام شامی آبادی کا صفایا ہوجائے‘‘۔

شامیوں نے اپنے کارٹونز اور خاکوں میں بھی امریکی صدر کے شام پر حملے کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہ کرنے کا خوب خوب مذاق اڑایا ہے۔ ایک کارٹون میں انھیں والٹ ڈزنی کا مکی ماؤس قرار دیا گیا ہے۔

ایک لطیفے میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے لتے لیے گئے ہیں۔ اس میں شامیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ ایک تصوراتی موبائل فون سروس ’’جان کیری‘‘ کو استعمال کریں اور کسی بھی قیمت پر جان کیری کو مطلع کریں کہ کب حملہ کیا جائے گا۔

بعض نے ایک ایسے شخص سے متعلق لطیفے کو شئیر کیا ہے جو غیر روایتی طریقے سے اپنی منگیتر کو تجویز کرتا ہے کہ : ’’میٹھی! ہمیں حملے کے بعد کا انتظار کرنا چاہیے۔ اس کے بعد ہم فیصلہ کریں گے کہ کیا کرنا ہے‘‘۔

شامیوں نے ممکنہ حملے کی تباہ کاریوں کا مضحکہ اڑانے کی بھی کوشش کی ہے اور خانہ جنگی کا شکار ملک کے باسی حملے کے ہر پہلو کا ٹھٹھا اڑاتے نظر آرہے ہیں۔ اس کا غماز یہ لطیفہ ہے: ’’ایک شخص اپنی اہلیہ کو یہ باور کرانے کی کوشش کررہا ہے کہ انھیں حملے سے قبل ایک نئے مکان کی ضرورت ہے‘‘ لیکن اس کی بیوی بڑے سکون سے جواب دیتی ہے: ’’ہمیں انتظار کرنا چاہیے کیونکہ حملے کے بعد تو مکانوں کے کرائے سستے ہوجائیں گے‘‘۔

شامیوں نے براک اوباما اور ان کے ممکنہ حملے کا ہی ٹھٹھا نہیں اڑایا بلکہ فیس بُک پر ایک صاحب نے پڑوسی ممالک میں پائی جانے والی افراتفری اور بے چینی کو اپنے الفاظ میں احاطہ تحریر میں لانے کی کوشش کی ہے۔

ان صاحب نے لکھا: ’’اسرائیلیوں نے گیس ماسک تقسیم کردیے ہیں۔ اردنی الرٹ ہیں، ترک دن رات طیارہ شکن میزائل نصب کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ لبنانی نروس ہوچکے ہیں، عراقی گم صم ہیں اور مصری اپنی خبروں سے بھی زیادہ ہماری خبروں پر نظر رکھے ہوئے ہیں‘‘۔

ایک اور نے لکھا: ’’کیا ہمیں یقین ہے کہ شام کے خلاف حملہ ہوگا ؟‘‘۔ ایک اور نے شامیوں کا یہ تصوراتی خاکہ کھینچا ہے کہ وہ عوامی مقامات پر بہت بڑی بڑی سکرینوں کے سامنے بیٹھ کر فٹ بال میچ دیکھنے کی طرح براہ راست حملے کا مشاہدہ کررہے ہیں۔ اس پر ایک اور شامی نے یوں تبصرہ کیا ہے: ’’شیشہ اور مشروبات کے ساتھ ایک شام‘‘۔

واضح رہے کہ گذشتہ سوموار کو منظرعام پرآنے والے رائے عامہ کے ایک جائزے کے مطابق 60 فی صد امریکیوں نے صدر براک اوباما کے شام کے خلاف مجوزہ جنگی منصوبے کی مخالفت کی ہے اور کانگریس کے ارکان کی اکثریت بھی اس کی مخالف ہے۔ اس لیے اس بات کا بہت کم امکان ہے کہ کانگریس شام کے خلاف فوجی کارروائی کی منظوری دے گی۔

یوں امریکی صدر نے شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے مبینہ حملے کے ردعمل میں شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف کارروائی کا بلند آہنگ انداز میں واویلا کرکے اپنی ساکھ کو داؤ پر لگا دیا ہے کیونکہ انھیں اس کے لیے کہیں سے بھی تائید نہیں مل سکی ہے اور اب اگر وہ محدود پیمانے پر جنگی کارروائی کا حکم دیتے ہیں تو اسے بین الاقوامی سطح پرغیرقانونی سمجھا جائے گا۔