.

ساتھی پر فائرنگ کی پاداش میں اردنی پارلیمنٹیرین کی رکنیت ختم

فائرنگ کا نشانہ بننے والے رکن کا پارلیمانی استحقاق و مراعات بھی واپس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن کے ایک رکن پارلیمنٹ طلال الشریف کو ایوان کے اجلاس کے دوران ساتھی پارلیمنٹیرین قصی الدمیسی پر فائرنگ کے جرم میں رکنیت کی منسوخی کے ساتھ جیل کی ہوا کھانا پڑی ہے۔ اردن کی تاریخ میں ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ کسی رکن پارلیمنٹ کے خلاف اتنی عجلت میں مواخذے کی کارروائی شروع کی گئی ہے۔ گڑبڑ میں ملوث دوسرے رکن پارلیمنٹ قصیٰ الدمیسی کو حاصل آئینی تحفظ بھی ختم کرکے ایک سال کے لیے پارلیمانی مراعات سے محروم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

منگل کے روز پارلیمنٹ کے اجلاس میں دیگر موضوعات پربحث کے بجائے ایوان میں فائرنگ کا واقعہ اٹھایا گیا۔ فائرنگ کے ملزم رکن پارلیمنٹ طلال الشریف کی رکنیت منسوخی کے لیے ایک قرارداد پیش کی گئی۔ ایوان میں موجود 150 ارکان میں سے 136 نے اس قرارداد کی حمایت کے ساتھ طلال کی فوری گرفتاری کا بھی مطالبہ کیا۔ پارلیمنٹ میں قرارداد کی کثرت رائے سے منظوری کے بعد طلال الشریف کو پولیس نے حراست میں لے کرعدالت میں پیش کیا۔ عدالت نے ملزم کوچودہ دن کے جسمانی ریمانڈ پردوبارہ پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔

پارلیمنٹ جیسے حساس ادارے میں اسلحہ لانے اور پھراسے استعمال کرنے کا اقدام آئین اور قانون کی رو سے ایک سنگین جرم ہے اور جرم ثابت ہونے کی صورت میں ملزم کوکئی سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ پارلیمنٹ نے کشیدگی کا باعث بننے والے دوسرے رکن قصی الدمیسی کے خلاف بھی "مناسب" کارروائی کی سفارش کی ہے۔ ابتدائی طورپر مسٹر الدمیسی کو رکن پارلیمنٹ کی حیثیت سے حاصل آئینی تحفظ ختم کرکے اسے ایک سال کے لیے تمام پارلیمانی مراعات سے بھی محروم کر دیا ہے۔ ایوان نے الدمیسی کوبھی عدالت میں پیش کرنے کی سفارش کی ہے تاہم آخری اطلاعات تک اس کی گرفتاری کی تصدیق نہیں کی گئی تھی۔

اردنی رکن پارلیمنٹ انجینیئر خلیل عطیہ نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ "طلال الشریف نے پارلیمان کے اجلاس کے دوران اسلحہ استعمال کر کے نہ صرف قانون ہاتھ میں لینے کی کوشش کی بلکہ اس نے ادارے کے مقام ومرتبے کو بھی ٹھیس پہنچائی ہے۔ دیگر اراکین پارلیمان اس کے اس اقدام پر سخت برہم تھے اور اسے سخت سے سخت سزا دلوانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ طلال کے خلاف پیش کی گئی قرارداد پرڈیڑھ سومیں سے ایک سو چھتیس ارکان نے حمایت کی۔

ایک سوال کے جواب میں خلیل عطیہ نے کہا کہ دستورمیں یہ وضاحت موجود ہے کہ پارلیمنٹ کی دو تہائی اکثریت اگر کسی رکن کے خلاف کارروائی یا رکنیت منسوخی کی سفارش کرے تو اس پرعمل درآمد کیا جائے گا۔ طلال الشریف کے خلاف قرارداد دو تہائی اکثریت سے زیادہ حمایت سے منظوری ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب اگلا کام عدالت کا ہے۔ عدالت نے طلال کو الجویدہ جیل منتقل کرنے اور پولیس ریمانڈ پردینے کا حکم دے دیا ہے۔ اسی جیل میں اب اس کےخلاف مقدمہ چلایا جائے گا۔

خیال رہے کہ اردنی پارلیمنٹ میں اراکین کے درمیان کشیدگی تین روز قبل اجلاس کے دوران کسی معاملے پر بحث سے شروع ہوئی تھی۔ بعد ازاں ان کے مابین گالم گلوچ شروع ہوئی اور انہوں نے ایک دوسرے پرجوتوں سے بھی حملے کی کوشش کی۔ اسی اثناء میں رکن پارلیمنٹ طلال الشریف نے اپنے پاس موجود کلاشنکوف سے فائرنگ کی، تاہم فائرنگ سے کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ واقعے کے فوری بعد اردن کے فرمانروا شاہ عبداللہ دوم نے اسپیکر پارلیمنٹ ہائل السرور کو طلب کر کے تفصیلات معلوم کیں۔ شاہ عبدللہ نے پارلیمنٹ کی چھت تلے غیرقانونی رویہ اپنانے میں واقعے میں ملوث تمام اراکین کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کی۔