.

ڈاکٹرقرضاوی کی مصری شہریت کی منسوخی مقدمے کی سماعت ملتوی

علامہ پر مصری فوج کے خلاف حملوں پر اکسانے کا الزام ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصرکی ایک انتظامی عدالت نے معروف عالم دین اورعالمی اتحاد العلماء کے چیئرمین علامہ ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی مصری شہریت ختم کرنے سے متعلق کیس کی سماعت ستائیس اکتوبر تک ملتوی کر دی ہے۔

ڈاکٹر قرضاوی کی شہریت سے متعلق مقدمہ سابق رکن پارلیمنٹ انجینیئر حمدی الفخرانی کی درخواست پر قائم کیا گیا ہے جس میں انہوں نے موقف اختیار کیا ہے کہ یوسف القرضاوی سیاسی بحران کے دوران مصری فوج پرحملوں اور ملک میں فتنہ وفساد برپا کرنے پر اکساتے رہے ہیں۔ عدالت نے مدعی سے کہا ہے کہ وہ ستائیس اکتوبرکو ہونے والی سماعت میں اپنے دعوے کے حق میں ثبوت پیش کریں۔

حمدی الفخرانی کے وکیل وائل حمدی نے اپنے موکل سے کہا ہے کہ وہ محکمہ پاسپورٹ و ایمیگریشن سے ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی مصرمیں آمد و رفت اور ملک میں قیام کا ریکارڈ بھی بطور ثبوت پیش کریں۔ عدالت نے علامہ یوسف القرضاوی کی تقاریر کی ریکارڈنگ بھی طلب کی ہے۔

خیال رہے کہ علامہ یوسف القرضاوی مصر اور خلیجی ریاست قطر کی بھی شہریت رکھتے ہیں۔ سابق مصری صدرحسنی مبارک کے دور حکومت میں ان کے مصر میں داخلے پر پابندی عائد تھی۔ معزول صدرڈاکٹر محمد مرسی کے دور حکومت میں علامہ القرضاوی آزادانہ مصر آتے جاتے رہے ہیں۔

تین جولائی کو مصر میں فوجی بغاوت کے خلاف ڈاکٹر یوسف القرضاوی نے بھی کھل کرتنقید کی تھی۔ ان کی یہ تنیقد آمریت کے اسیروں کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں ہو رہی ہے۔ موجودہ فوج نواز حکومت کو ڈاکٹر قرضاوی کے خلاف اور تو کچھ نہ ملا تو ان کی شہریت ختم کرنے کا مقدمہ دائر کر دیا گیا۔