.

عالمی طاقتیں کیمیائی ہتھیاروں پر 'گندی ڈیل' کے لیے کوشاں ہیں

ہتھیار شامی عوام نہیں، اسرائیلی مفاد میں لیے جائیں گے: باغی کمانڈر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آزاد شامی فوج کی طرف سے بشار الاسد کے ساتھ کیمیائی ہتھیاروں کے معاملے میں عالمی طاقتوں کی امکانی ڈیل کی مذمت کرتے ہوئے شامی عوام کے بجائے اسرائیل کو محفوظ بنانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ آزاد فوج ایف ایس اے کے سینئیر کمانڈر کرنل عبدالجبار العکیدی کے مطابق ''عالمی طاقتوں کی کیمیائی ہتھیار بین الاقوامی کنٹرول میں دینے اور بشارالاسد رجیم کو کچھ نہ کہنے کی تیاری درحقیقت اسرائیل کی خدمت انجام دینے کے لیے ہے۔''

انہوں نے کہا ''مغربی ممالک کے شام پر حملے سے گریز کے لیے ایک گندی ڈیل کی جا رہی ہے۔ '' کرنل عبدالجبار کا ''العربیہ'' سے انٹرویو میں کہنا تھا '' ایک کوشش یہ ہو رہی ہے کہ اوباما کو اس درخت سے بچایا جائے جس پر وہ چڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں بعد ازاں روس نیچے سے سیڑھی کھینچ رہا ہے۔''

''اس لیے ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ بشارالاسد رجیم کے ساتھ کیمیائی ہتھیاروں کے معاملے پر سمجھوتہ شام کے مظلوموں کے حق میں نہیں بلکہ صرف اسرائیل کی خدمت بجا لانے کے لیے ہے۔''

کرنل عبدالجبار نے کہا ''عامی سطح پر ہونے والی چیخ پکار شام کے مصیبت زدہ اور مظلوم عوام کے لیے نہیں بلکہ صرف کیمیائی ہتھیاروں کی وجہ سے ہے، کسی کو اس چیز کی پروا نہیں کہ بشار رجیم شہریوں کے خلاف ٹینک اور راکٹ لانچرز استعمال کر رہی ہے۔''

آزاد شامی فوج کے کمانڈر نے عالمی برادری کے بارے میں مایوسی ظاہر کرتے ہوئے کہا '' شام کے عوام کو باغیوں کے ساتھ متحد ہو کر آگے بڑھنا چاہیے نہ کہ بین الاقوامی طاقتوں پر بھروسہ کیا جائے کہ وہ بشارالاسد کو اقتدار سے الگ کریں گی۔'' انہوں نے مزید کہا '' بشار الاسد سے نجات کے بغیر شام کے مسئلے کا سیاسی حل قبول نہیں۔''

شام کی باغی فوج کے ذمہ دار نے انقلاب کے لیے کوشاں سیاسی قیادت کی باغی فوج کے ساتھ کوآرڈی نیشن کی صورتحال کو اطیمنان بخش قرار نہ دیتے ہوئے کہا'' یہ سیاسی قائدین شام کے عوام کی قیادت کا حق نہیں رکھتے ہیں۔''

ایک سوال کے جواب میں باغی کمانڈر نے کہا ''بشارالاسد رجیم کے خلاف لڑنے والے باغیوں کی تعداد دو لاکھ کے قریب ہے، جبکہ اسلام پسندوں کی تعداد دس ہزار سے زیادہ نہیں ہے، اسی طرح غیر ملکی افراد جو باغیوں کے ساتھ مل کر لڑ رہے ہیں ان کی تعداد محض دو ہزار ہو سکتی ہے ۔''