.

اسرائیل: شامی کیمیائی ہتھیار عالمی برادری کے حوالے کرنیکی تائید

شامی اپوزیشن اس منصوبے کو اسرائیل کے مفاد میں قرار دیتی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل نے پہلی بار مگر بڑے محتاط انداز میں شام کے کیمیائی ہتھیاروں کے روسی رابطہ کاری سے بین الاقوامی کنٹرول میں جانے کی مشروط حمایت کی ہے۔

21 اگست کو الغوطہ میں کیمیائی ہتھیا روں کے مبینہ استعمال کی خبروں کے بعد اسرائیل نے قدرے اہتمام کے ساتھ اس اہم موضوع پر خود کو خاموش رکھا ہوا تھا، تاہم جمعرات کے روز اسرائیلی وزیر اعظم کے قریبی سمجھے جانے والے وزیر برائے تذویراتی امور یووال ستینیتز نے فوج کے ترجمان ریڈیو کے ذریعے کہا ہے کہ اس منصوبے پر عمل در آمد کی ضرورت ہے نیز روس کو اس چیز کی ضمانت دینی چاہیے کہ شام اس کے بعد کیمیائی ہتھیاروں سے پاک ہو جائے گا۔

اسرائیل نے اس امر کا اظہار ایسے وقت میں کیا ہے جب امریکی صدر اوباما اپنے فوجی آپشنز کو التواء میں رکھ کر روس کے ساتھ مل کر کیمیائی ہتھیاروں کو بین الاقوامی کنٹرول میں لانے کا خیر مقدم کر رہے ہیں اور امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف جنیوا میں اسی سلسلے میں آج مذاکرات بھی کرنے والے ہیں۔

اس سے پہلے شام کی باغی فوج کے سینئیر کمانڈر کرنل عبدالجبار الاوقاعدی شام کے کیمیائی ہتھیاروں کی اقوام عالم کو حوالگی منصوبے کوشام کے عوام کے بجائے اسرائیلی مفاد میں قرار دیتے ہوئے مایوسی کا اظہار کر چکے ہیں۔ اب اسرائیل نے اس کی تائید بھی کر دی ہے۔ اس سے پہلے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے بشار رجیم سے کیمیائی ہتھیار چھوڑ دینے کا مطالبہ کیا تھا۔