.

دمشق میں کیمیائی ہتھیاروں کے نئے حملے کا دعویٰ

جبر میں کیمیائی حملے میں متعدد افراد کے ہلاک اور زخمی ہونے کی اطلاع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی حزب اختلاف کے کارکنان نے دارالحکومت دمشق میں مہلک کیمیائی ہتھیاروں کے نئے حملے کا دعویٰ کیا ہے اور اس کی انھوں نے ویب سائٹس پر تصاویر پوسٹ کی ہیں۔

اس مرتبہ دمشق کے نواحی علاقے الجبر کو کیمیائی حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے اور شامی کارکنان کے مطابق اس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ قبل ازیں دمشق کے علاقے الغوطہ میں 21 اگست کو کیمیائی ہتھیاروں کا حملہ کیا گیا تھا اور اس کے نتیجے میں اپوزیشن کے دعوے کے مطابق کم سے کم چودہ سو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

درایں اثناء فرانسیسی وزیرخارجہ لوراں فابئیس نے ایک ریڈیو انٹرویو میں کہا ہے کہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے حملے سے متعلق اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کی رپورٹ آیندہ سوموار کو شائع کردی جائے گی۔ ان کے بہ قول یہ رپورٹ بتادے گی کہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں سے قتل عام کیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے کیمیائی ہتھیاروں کے ماہرین کی ٹیم نے الغوطہ میں حملے کے بعد متاثرہ افراد کے نمونے اکٹھے کیے تھے اور وہ 31 اگست کو شام سے لوٹ آئی تھی۔

امریکا اوراس کے اتحادیوں نے شامی صدر بشارالاسد کی حکومت پر اس کیمیائی حملے کا الزام عاید کیا تھا جبکہ شام اور اس کے اتحادی روس نے اس الزام کی تردید کی تھی۔

ذرائع کے مطابق اقوام متحدہ کی نئی رپورٹ میں واضح طور پر یہ تو نہیں کہا گیا کہ یہ حملہ کس نے کیا تھا۔ تاہم اس سے حقائق منظرعام پر آنے کے بعد یہ اندازہ ہوسکے گا کہ خانہ جنگی کا کون سا فریق اس حملے کا ذمے دار ہوسکتا ہے اور پھر اس کی بنیاد پر امریکا اور روس کے درمیان شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو بین الاقوامی نگرانی میں دینے سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مجوزہ قرارداد پر کوئی سودے بازی ہوسکتی ہے۔