.

سلفی مسکرا بھی سکتے ہیں: آن لائن میگزین میں انکشاف؟

تیونسی شہری سخت گیروں کے نئے پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہیں!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس کو عالم عرب کے سب سے سیکولر ممالک میں سے ایک خیال کیا جاتا ہے لیکن 2011ء کے اوائل میں عوامی انقلاب کے نتیجے میں مطلق العنان سابق صدر زین العابدین بن علی کے اقتدار کے خاتمے کے بعد سے راسخ العقیدہ اور سخت گیر مذہبی قوتوں نے زور پکڑا ہے جس پر آرٹسٹ، دانشور اور آزاد خیال (لبرلز) چیں بہ جبیں ہو رہے ہیں۔

تیونس میں ان سخت گیروں میں سلفی سب سے نمایاں ہیں۔ وہ اسلامی تعلیمات کی سخت تعبیروتشریح کے حامی ہیں۔ سابق صدر زین العابدین کے دور میں بہت سے سلفی جیلوں میں بند رہے تھے لیکن ان کے اقتدار کے خاتمے کے بعد انھیں اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی آزادی نصیب ہوئی جس پر ملک کی سیکولر اشرافیہ مشوش ہے۔

تیونس میں سلفیوں نے حالیہ مہینوں کے دوران سینما گھروں پر حملے کیے ہیں، شراب فروخت کرنے کی دکانوں کو نشانہ بنایا ہے اور صوفیہ کے مزارات پر بھی حملے کیے ہیں۔ اس پر انھیں مختلف حلقوں کی جانب سے تنقید کا سامنا ہے۔ سلفی جنگجوؤں پر ملک کے دو سیکولر سیاست دانوں کے قتل کا الزام بھی عاید کیا گیا ہے۔

سلفیوں کے ان سخت گیر اقدامات کی وجہ سے ان کے اور آزاد خیالوں کے درمیان خلیج بڑھی ہے۔ ایسے میں ایک تیونسی نوجوان نے اس خلیج کو پاٹنے کا بیڑا اٹھایا ہے اور وہ بھی آن لائن تحریروں کے ذریعے۔ بلاگر بدرالانوار اپنی ویب سائٹ کو جدید سلفی میگزین قرار دیتے ہیں اور ان کے بہ قول وہ مذہبی عقائد سے انحراف کیے بغیر تفریح طبع کا سامان کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

بدرالانوار سوس میں واقع اپنے گھر سے مضامین لکھتے اور انھیں آن لائن پوسٹ کردیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد دولت کمانا نہیں بلکہ ایک بحث شروع کرنا ہے۔’’ہم سمجھتے ہیں کہ ہم مصدقہ اسلام کی پیروی کررہے ہیں۔ وہ اسلام جو قرآن اور سنت میں موجود ہے۔ ہم فری اسٹائل یا دائیں یا بائیں نہیں ہوتے۔ میرے اس بلاگ کے نہ تو اخراجات ہیں اور نہ کوئی آمدن ہے بلکہ میں اس کام کو جزوی طور پر اپنی تسکین کے لیے کرتا ہوں، میں ذہنوں کو تبدیل کرنا چاہتا ہوں اور مباحثہ شروع کرنا چاہتا ہوں‘‘۔ ان کا کہنا ہے۔

چونتیس سالہ بدرالانوار کے ایس ایل ایف میگزین کے نام کا مآخذ عربی لفظ سلفی کے تین حروف ہیں۔ اس کو روزانہ قریباً چھے ہزار ناظرین پڑھتے ہیں اور اس کے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین کے عنوانات یہ ہیں:’’آپ قمیص پہن کر کیا نہیں کرسکتے‘‘ اور ’’کیا جہادی جدید دور کے سپر ہیرو ہیں؟‘‘

وہ جہادیوں کو اپنے بلاگ کے صفحات میں سپر ہیرو قرار دینے کے باوجود اپنے کام کو جہاد کی ایک قسم قرار نہیں دیتے۔ ان کے مضامین میں فیشن، طرز زندگی، ٹیکنالوجی جیسے موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے لیکن وہ انٹرنیٹ کے ناظرین کو اپنے بلاگ کی جانب راغب کرنے کے لیے خواتین کی نیم عریاں تصاویر شائع نہیں کرتے۔

بدرالانوار کے مستقل قارئین میں سے ایک ان کے دوست مصطفیٰ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’تیونسی سلفیوں کی جو منفی تشہیر کی گئی ہے، اس کا کوئی جواز پیش نہیں کیا جاسکتا۔ ایسا ہمیشہ ہوتا ہے کہ جب ہم دوسرے لوگوں کے ساتھ مل کر ہنستے ہیں تو وہ کہتے ہیں :’’نہیں تم کیسے یہ کررہے ہو؟ تم حقیقی سلفی نہیں ہو کیونکہ حقیقی سلفی تو مسکراتے نہیں ہیں، وہ ہمیشہ سنجیدہ یا پھر جارح ہوتے ہیں مگر یہ غلط تصور ہے‘‘۔

تیونسی بلاگر اپنے میگزین کو کاغذی شکل میں شائع کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے ہیں لیکن انھیں امید ہے کہ ایس ایل ایف میگزین سلفیوں کے مثبت پہلوؤں کو اجاگر کرے گا اور اسلامی انتہا پسندی کا خاتمہ کرے گا جس کے خلاف تیونس کی اعتدال پسند مذہبی جماعت النہضہ کی قیادت میں حکومت اب مختلف حلقوں کے بے پایاں دباؤ کے بعد کریک ڈاؤن کا ارادہ رکھتی ہے۔