.

شام: سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کا ایک اور اجلاس متوقع

فرانس قرارداد میں تبدیلی پر تیار، امریکا روس مذاکرات جاری رہیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان بدھ کے روز شام کے کیمیائی ہتھیاروں کے تنازعے پر دوبارہ غور کریں گے۔ ویٹو کا حق رکھنے والے پانچ ملکوں کا مجوزہ اجلاس سیکرٹری جنرل بان کی مون کے اس بیان کے بعد طے کیا گیا ہے جس میں انہوں نے '' شام میں تشدد اور مظالم کے حوالے سے کہا تھا کہ یہ عالمی ادارے سلامتی کونسل پر ایک نیا دھبہ ثابت ہوں گے ۔

اس سے پہلے امریکا ، فرانس اور برطانیہ منگل کے روز یہ زور دے کر کہہ چکے ہیں کہ اگر شام اپنے ممنوعہ کیمیائی ہتھیار بین الاقوامی برادری کے حوالے کرنے میں ناکام رہا تو شام کے خلاف سلامتی کونسل میں ایک اور قرار داد لائی جائے۔

دوسری جانب روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے واضح طور پر کہا ہے کہ ایسی قرارداد سلامتی کونسل کی رکن پندرہ اقوام کے لیے نا قابل قبول ہو گی۔ جس میں 21 اگست کو شام میں مبینہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی ذمہ داری بشارالاسد پر ڈال دی جائے۔

اسی دوران سلامتی کونسل کا منگل کے دن بلایا گیا ایک اجلاس محض آخری وقت پر روس کی روس کی درخواست پر ملتوی کیا جا چکا ہے۔ اس موقع پر فرانس نے عندیہ دیا ہے کہ وہ شام سے متعلق قرارداد نئے سرے سے تیار کرنے کو تیار ہے، جس میں فوجی کارروائی کی آپشن شام پر دباو بڑھانے کے لیے شامل ہو گی۔

اس حوالے سے یہ پیش رفت بھی ہو چکی ہے کہ روس نے امریکا کو ایک ایسا منصوبہ پیش کر چکا ہے جس میں 1993 کے کنونشن کے مطابق شام کے کیمیائی ہتھیار بین الاقوامی کنٹرول میں دینا امریکا روس اہم ملاقات سے پہلے دے سکتا ہے۔