.

عراق: مجاہدین خلق کے آخری دستے نے بھی اشرف کیمپ چھوڑ دیا

تنظیم نے ابتدا میں کیمپ چھوڑنے کے مطالبے کی مزاحمت کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی حکام کے مطابق دیالی کے علاقے میں ایران مخالف تنظیم 'مجاہدین خلق' کے کارکنوں کا آخری دستہ بھی "اشرف کیمپ" چھوڑ گیا ہے جس کے بعد دائیں بازو کی تہران مخالف یہ تنظیم تاسیس کے 27 برس بعد عراق میں اپنی دکان بڑھا گئی ہے۔

امریکی خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس نے عراقی حکومت کے عہدیداروں کے حوالے سے بتایا کہ مجایدین خلق کے بیالس افراد پر مشتمل آخری دستہ بھی کیمپ چھوڑ چکا ہے، جس کے بعد اشرف کیمپ میں تنظیم کا کوئی رکن باقی نہیں رہا۔

دیالی شہر کے پولیس چیف جمیل الشمری نے بتایا کہ اشرف کیمپ میں مقیم ایران مخالف جماعت کے ارکان نے ابتداء میں کیمپ چھوڑنے کے حکم کی مزاحمت کی تاہم اقوام متحدہ کے نمائندوں کی مداخلت کے بعد وہ کیمپ خالی کرنے پر تیار ہو گئے۔

ہمسایہ ملک ایران کے ساتھ اچھے تعلقات کے باوجود عراقی حکومت ماضی میں کیمپ بند کرانے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ ایران مزاحمتی کونسل نے ایک اعلان میں کہا ہے کہ تنظیم کے ارکان نے کونسل کے سربراہ مریم رجوی کے حکم پر کیمپ خالی کرنے کی حامی بھری تھی تاکہ تنظیم کے لوگوں کی زندگیاں بچائی جا سکیں۔ عراقی حکومت اشرف کیمپ میں مجاہدین خلق کے آخری دستے کو اس بات پر مجبور کرتی رہی کہ وہ دارلحکومت بغداد کے ہوائی اڈے کے قریب 'لبرٹی کیمپ' میں اپنے وہاں موجود تین ہزار دوسرے ساتھیوں کے ساتھ جا ملیں۔

ستمبر کے اوائل میں اشرف کیمپ پر مسلح افراد کے حملے میں مجاہدین خلق کے پچاس سے زائد ارکان مارے جا چکے ہیں۔ کیمپ پر حملے کی ذمہ داری کسی گروپ نے ابھی تک قبول نہیں کی ہے۔ عراقی حکومت نے حملے کا سبب اور ذمہ داروں کا تعین کرنے کی خاطر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، تاہم انقلابی گارڈز کے سیکرٹری نے کیمپ پر حملے کا الزام عراق میں موجود مجاہدین خلق کے مخالف ایران نواز حلقوں پر عاید کیا ہے۔

عراق میں مجاہدین خلق کا اشرف کیمپ سابق عراقی صدر صدام حسین کے دور میں 1986ء میں قائم کیا گیا تھا تاکہ ایران کے خلاف مسلح جدوجہد کرنے والوں کو یہاں پناہ اور تربیت دی جا سکے۔ ایران، مجاہدین خلق کو دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے اور عراقی حکومت پر مسلسل دباٶ ڈالتا رہا ہے کہ وہ تنظیم کے ارکان کو ملک سے نکال باہر کرے۔

مجاہدین خلق کا نام کئی برسوں تک دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل رہا ہے تاہم چند برس قبل امریکا اور یورپی یونین نے تنظیم کا نام دہشت گردی کی فہرست سے نکال دیا تھا۔ عراق پر امریکی حملے کے بعد امریکی فوج نے کیمپ کی سیکیورٹی سنبھال لی تھی اور تنظیم کے ارکان کو "غیر دشمن مسلح انجمن" قرار دیا تھا، تاہم اقتدار عراقی حکومت کو منتقل ہونے کے بعد سے تنظیم کو اشرف کیمپ چھوڑنے پر مسلسل دباٶ کا سامنا رہا ہے۔