.

عراق: مسجد میں خودکش حملہ، کم از کم 39 افراد ہلاک

حملے کے وقت نمازی مسجد سے باہر نکل رہے تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں شیعہ مسلمانوں کی ایک مسجد پر ہونے والے خودکش بم حملے میں کم از کم انتالیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

حکام کے مطابق يہ سن 2008ء کے بعد سے اب تک ہونے والے حملوں ميں سے بدترین حملہ تھا، جس میں پچپن سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے۔ بغداد کے شمال مغرب میں واقع شیعہ اکثریتی آبادی والی قصرہ ٹاؤن میں ہونے والے اس حملے کی ابھی تک کسی بھی گروپ نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ یہ حملہ اس وقت کیا گیا، جب نمازی مسجد سے باہر نکل رہے تھے۔

عراق میں حالیہ چند مہینوں کے دوران فرقہ ورانہ تشدد میں واضح اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ سن 2008ء کے بعد ان دنوں فرقہ ورانہ تشدد اپنی بلندترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق رواں برس جنوری سے لے کر اب تک پانچ ہزار سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں جبکہ ان حملوں میں زخمیوں کی تعداد بارہ ہزار سے بھی زیادہ بنتی ہے۔

خبر رساں ادارے رائیٹرز کے مطابق تشدد کی اس تازہ لہر سے ایک مرتبہ پھر اس ملک میں فرقہ ورانہ فسادات کے نئے دور کا آغاز ہو سکتا ہے۔ سن 2006 اور 2007ء کے دوران ہزاروں عراقی شہری سنی اور شیعہ مسلمانوں کے مابین ہونے والے فرقہ ورانہ حملوں میں مارے گئے تھے۔

عراق میں جاری حالیہ کشیدگی میں اضافہ اس وقت سے ہوا ہے، جب حکومت نے سُنیوں کی طرف سے الحويجہ کے قریب لگائے گئےایک احتجاجی کیمپ کے خلاف کارروائی کی۔ احتجاجی کیمپ میں شامل مظاہرین کا کہنا تھا کہ ان کے ساتھ مذہبی بنیادوں پر امتیازی سلوک برتا جا رہا ہے۔

یہ امر اہم ہے کہ عراق میں سیاست نسلی اور فرقہ ورانہ بنیادوں پر ہوتی ہے۔ وہاں شیعہ، سُنی اور کرد نسل کی آبادی کے مابین اقتدار میں شراکت داری پر اختلافات پائے جاتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق شام کی صورتحال بھی عراق میں فرقہ ورانہ تشدد میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔