.

لیبیا: اخوان المسلمون کا کابینہ چھوڑنے پر غور

اسلامی جماعت وزیراعظم علی زیدان کے دورہ قاہرہ پر نالاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کی اسلامی جماعت اخوان المسلمون نے وزیراعظم علی زیدان کے حالیہ دورہ قاہرہ کے خلاف احتجاج کے طور پر کابینہ چھوڑنے کی دھمکی دی ہے۔

لیبی وزیراعظم علی زیدان نے گذشتہ ہفتے مصر کا دورہ کیا تھا اور عبوری صدر عدلی منصور اور مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی سے ملاقات کی تھی۔ اس کے بعد لیبی اخوان المسلمون کے سیاسی بازو انصاف اور تعمیر پارٹی (پی جے سی) نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں دورے کی مذمت کی گئی ہے۔

اخوان المسلمون مصر میں مسلح افواج کے سربراہ کے ہاتھوں منتخب جمہوری صدر محمد مرسی کی برطرفی پر نالاں ہے۔ اس نے اسے فوجی بغاوت قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ فوجی انقلاب برپا کرنے والوں نے جرائم کا ارتکاب کیا ہے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کی ہیں۔

اخوان نے بیان میں وزیراعظم علی زیدان پر الزام عاید کیا کہ وہ رائے عامہ کی توجہ داخلی مسائل سے ہٹانے کی کوشش کررہے ہیں حالانکہ ان کی حکومت تمام سطحوں اور خاص طور پر شہریوں کو جان ومال کا تحفظ دینے، بدعنوانیوں کے خاتمے اور تیل کی پیداوار بڑھانے میں ناکام رہی ہے۔

دوسری جانب علی زیدان نے اخوان کے ان الزامات کو مسترد کردیا ہے۔ انھوں نے گذشتہ اتوار کو ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ انھوں نے قوم کے مفاد میں مصر کا دورہ کیا ہے۔ انھوں نے مصر کے ساتھ قریبی دو طرفہ تعلقات اور خاص طور پر سکیورٹی کے شعبے میں دو طرفہ تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔

انھوں نے کہا کہ اخوان المسلمون اور پی جے سی ان کی وزارت عظمیٰ کی مخالفت کرتی رہی ہیں اور انھوں نے ابتدا میں متردد انداز میں ہی کابینہ میں شمولیت اختیار کی تھی۔

واضح رہے کہ اخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والے لیبیا کے نائب وزیراعظم عواض البراسی گذشتہ ماہ مستعفی ہوگئے تھے۔ انھوں نے حکومت پر غیر فعال ہونے کا الزام عاید کیا تھا۔ پی جے سی کے ایک ذریعے نے بتایا کہ جماعت کے پولٹ بیورو نے گذشتہ اتوار کو حکومت سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔ وزیراعظم علی زیدان کی قیادت میں لیبیا کی مخلوط حکومت میں پی جے سی کو اقتصادی امور، مکانات، بجلی، امور نوجواناں اور تیل کی وزارتیں دی گئی تھیں۔

لیبیا کے ایک سیاسی تجزیہ کار اعصام الفیضی کا یہ ماننا ہے کہ ’’علی زیدان کی حکومت کی کارکردگی بہت کمزور رہی ہے لیکن ان کے بہ قول وزیراعظم کے قاہرہ کے دورے پر پی جے سی کی جانب سے تنقید سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ لیبی اخوان المسلمون کی اپنے ملک کے بجائے مصری اخوان کے ساتھ زیادہ وابستگی ہے‘‘۔