.

مصر: ہنگامی حالت کے نفاذ میں دو ماہ کی توسیع

عبوری صدر کا ملک میں سکیورٹی کی مخدوش صورت حال کے پیش نظر فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے عبوری صدر عدلی منصور نے ملک بھر میں ہنگامی حالت کے نفاذ میں دوماہ کی توسیع کردی ہے۔

صدارتی ترجمان نے جمعرات کو ایک بیان میں بتایا ہے کہ ’’صدر عدلی منصور نے ایمرجنسی کے نفاذ میں مزید دو ماہ کی توسیع کرنے کا فیصلہ کیا ہے‘‘۔ عبوری صدر نے14 اگست کو ملک بھر میں برطرف صدر محمد مرسی کے حامیوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد ایک ماہ کے لیے ہنگامی حالت نافذ کردی تھی۔

تب ایوان صدر کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں مسلح افواج سے کہا گیا تھا کہ وہ ملک میں امن و امان کے قیام کے لیے وزارت داخلہ کی مدد کریں۔

ہنگامی حالت کے نفاذ سے قبل مصری فورسز نے دارالحکومت قاہرہ میں برطرف صدر محمد مرسی کے ہزاروں حامیوں کے دو دھرنوں کو خونریز مسلح کارروائی کے ذریعے ختم کردیا تھا۔ سکیورٹی فورسز کی قاہرہ میں اس کارروائی کے بعد ملک بھر میں ہنگامے پھوٹ پڑے تھے اور ڈاکٹر مرسی کے حامیوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں۔

مصری فورسز نے قاہرہ میں رابعہ العدویہ اسکوائر اور النہضہ اسکوائر میں برطرف صدر کے حامیوں کے احتجاجی دھرنوں کو ختم کرانے کے لیے فوجی طاقت کا بے مہابا استعمال کیا تھا اور ہیلی کاپٹروں، بکتر بند گاڑیوں اور بلڈوزوروں کی مدد سے کیے گئے آپریشن میں چھے سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

مصر میں اس وقت سے شام سات بجے سے صبح سات بجے تک سخت فوجی کرفیو نافذ ہے۔ عبوری حکومت نے گذشتہ ماہ کرفیو کا وقت رات گیارہ بجے تک بڑھا دیا تھا۔