.

جاسوسی کے الزام میں یو اے ای میں مقیم پاکستانی کو قید کی سزا

میں نے جاسوسی کے عوض آٹھ ہزار ڈالر لئے: مجرم کا اقبالی بیان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کی ایک عدالت نے ایک پاکستانی شہری کو دوسرے ملک کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں تین سال کی سزا سنادی ہے۔ وفاقی سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق حساس ادارے کے لیے کام کرنے والے پاکستانی ڈرائیور کو ایک دوسرے ملک کے سفارت خانے میں ایک انٹیلجنس افسر نے بھرتی کیا تھا۔

یو اے ای کی سرکاری خبر رساں ایجنسی 'وام' کے مطابق ڈرائیور پر الزام ہے کہ انہوں نے متحدہ عرب امارات اور غیر ملکی سفارت کاروں کی تصویریں سپلائی کی تھیں۔ پاکستانی شہری نے اس بات کا اعتراف کیا کہ انہیں ایسا کرنے کے 30 ہزار درہم (8 ہزار امریکی ڈالر) ملے تھے جبکہ سفارت خانے اور دبئی میں قائم ایک ایرانی ہسپتال میں ان کی افسر سے متعدد بار ملاقات ہوئی تھی۔ خبر رساں ایجنسی نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ شخص کس ملک کے لیے جاسوسی کررہا تھا۔

اسی مقدمے میں ایک ایرانی شخص کو ثبوتوں کی کمی کی بنا پر بری کردیا گیا ہے۔ ایران اور یو اے ای کے درمیان ابو موسیٰ کے جزیروں کی ملکیت کا تنازعہ چل رہا ہے۔ برطانیہ کی خلیجی ممالک سے زخصت کے بعد 1971ء میں ایران نے جزیروں کا کنٹرول حاصل کرلیا تھا۔