.

امریکا سے شامی حزب اختلاف کو مہلک ہتھیاروں کی ترسیل

سی آئی اے کی نگرانی میں شامی باغیوں کو فوجی امداد بھیجے جانے کی تصدیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی حزب اختلاف کے بڑے گروپ نے اطلاع دی ہے کہ صدر بشارالاسد کی فورسز کے خلاف بر سر پیکار باغی جنگجوؤں پر مشتمل جیش الحر کو امریکا کی جانب سے مہلک ہتھیار ملنا شروع ہو گئے ہیں۔

شامی قومی اتحاد (ایس این سی) کے ترجمان خالد الصلاح نے بتایا ہے کہ ''واشنگٹن نے پہلے اس بات کی تصدیق چاہی تھی کہ حزب اختلاف کو بھیجی جانے والی فوجی امداد غلط ہاتھوں میں نہیں جائے گی''۔ اس کے بعد اس نے اسلحے کی ترسیل شروع کی ہے۔

امریکا کا مرکزی خفیہ ادارہ سی آئی اے صدر بشارالاسد کے خلاف برسرپیکار باغیوں کو مسلح کرنے کی مہم کی نگرانی کررہا ہے لیکن سی آئی اے نے اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔

خالد الصلاح نے واشنگٹن میں نیوزکانفرنس میں امریکا کی جانب سے شامی باغیوں کو فوجی آلات مہیا کرنے کی اطلاع دی ہے اور یہ پہلا عوامی بیان ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ امریکا کی جانب سے بھیجے گئے آلات اور گولہ بارود میدان جنگ میں پہنچ رہے ہیں۔

تاہم امریکی حکومت کے ایک ذریعے کا کہنا ہے اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ امریکا کی جانب سے مہیا کیا گیا کوئِی ہتھیار شامی حزب اختلاف کے جنگجوؤں کے ہاتھ لگ گیا ہو۔ تاہم اس ذریعے نے اس بات سے انکار نہیں کیا کہ اس طرح کی فوجی امداد شامی باغیوں کو مہیا کرنے کے لیے کام ہو رہا ہے۔

امریکی حکام نے خود ہی میڈیا کو یہ انکشاف کیا ہے کہ سی آئی اے نے ترکی اور اردن کے راستے سے شامی باغیوں کو ہلکے ہتھیار اور گولہ بارود بھیجا ہے۔ چند ماہ قبل شامی باغیوں نے عرب ریاستوں کی جانب سے بھیجے گئے ہتھیار ملنے کی تصدیق کی تھی اور ان کا کہنا تھا کہ یہ ہتھیار میدان جنگ میں طاقت کا توازن تبدیل کردیں گے۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) نے کچھ عرصہ قبل ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ اردن، سعودی عرب، ترکی اور قطر امریکا اور بعض مغربی حکومتوں کی مشاورت سے بڑے ہی خفیہ انداز میں شامی باغیوں کو مسلح کرنے کی مہم پرعمل پیرا ہیں تا کہ باغی جلد سے جلد دارالحکومت دمشق کو مفتوح کرسکیں اور بشارالاسد کا دھڑن تختہ کر سکیں۔

شامی حزب اختلاف ایک عرصے سے مغربی ممالک سے اسلحہ مہیا کرنے کا مطالبہ کرتی چلی آ رہی ہے۔ باغی جنگجوؤں کے پاس صدر بشارالاسد کی فوج کا مقابلہ کرنے کے لیے جدید ہتھیار نہیں ہیں اور وہ ہلکے ہتھیاروں سے ہی شامی فوج سے نبرد آزما ہیں۔ تاہم امریکا شامی باغیوں کو مسلح کرنے کی مخالفت کرتا رہا ہے۔ امریکی عہدے داروں کا یہ موقف رہا ہے کہ شام میں بھیجے جانے والے ہتھیار اسلامی جنگجوؤں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں جو بعد میں ان کے لیے بڑے مسائل پیدا کرسکتے ہیں۔