.

امریکا کا مصر سے ایمرجنسی فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ

شہریوں کو پرامن اجتماع اور اظہار رائے کا حق دیا جائے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے مصر کی عبوری حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ملک میں اگست کے وسط سے نافذ ہنگامی حالت فوری طرح پر ختم کرے۔

امریکی محکمہ خارجہ کی نائب ترجمان میری حرف نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''ہم ہنگامی حالت کے نفاذ کی مخالفت کرتے ہیں جیسا کہ شروع دن سے ہم اس کی مخالفت کررہے ہیں۔ ہم عبوری حکومت پر زور دیتے ہیں کہ وہ اس کو فوری طور پر ختم کرے''۔

مس حرف نے قاہرہ حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ایک ایسا ماحول پیدا کرے جس میں تمام طبقوں سے تعلق رکھنے والے مصری پرامن انداز میں اجتماع اور اظہار رائے کے حق کو استعمال کرسکیں۔

امریکی ترجمان نے مزید کہا کہ ''مصر کی عبوری حکومت اور فوج اس بات کو یقینی بنائیں کہ پولیس یا فوج جس کس شہری کو بھی گرفتار کریں، اس کا کیس سول عدالت کو بھیجا جائے اور اس ضمن میں درست قانونی طریق کار اپنایا جائے''۔

مصر کےعبوری صدر عدلی منصور نے جمعرات کو ملک بھر میں ہنگامی حالت کے نفاذ میں دوماہ کی توسیع کی ہے۔ عبوری صدر نے14 اگست کو ملک بھر میں برطرف صدر محمد مرسی کے حامیوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد ایک ماہ کے لیے ہنگامی حالت نافذ کردی تھی۔

ہنگامی حالت کے نفاذ سے قبل مصری فورسز نے دارالحکومت قاہرہ میں برطرف صدر محمد مرسی کے ہزاروں حامیوں کے دو دھرنوں کو خونریز مسلح کارروائی کے ذریعے ختم کردیا تھا۔ سکیورٹی فورسز کی قاہرہ میں اس کارروائی کے بعد ملک بھر میں ہنگامے پھوٹ پڑے تھے اور ڈاکٹر مرسی کے حامیوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں سیکڑوں افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

مصری فورسز کے قاہرہ میں رابعہ العدویہ اسکوائر اور النہضہ اسکوائر میں برطرف صدر کے حامیوں کے احتجاجی دھرنوں کو ختم کرانے کے لیے ہیلی کاپٹروں، بکتر بند گاڑیوں اور بلڈوزوروں کی مدد سے کیے گئے آپریشن میں چھے سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ مصر میں اس وقت سے شام سات بجے سے صبح سات بجے تک سخت فوجی کرفیو نافذ ہے۔ عبوری حکومت نے گذشتہ ماہ کرفیو کا وقت رات گیارہ بجے تک بڑھا دیا تھا۔