شام کیمیائی ہتھیاروں کے معاہدے کا رکن بن گیا؟

صدراسد نے کنونشن کی رکنیت کے لیے قانونی فرمان پر دستخط کردیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام کیمیائی ہتھیاروں کے معاہدے کا مکمل رکن ملک بن گیا ہے۔ اس ضمن میں اقوام متحدہ میں متعین شامی سفیر بشارالجعفری نے نیویارک میں عالمی ادارے کو متعلقہ دستاویزات جمع کرا دی ہیں۔

انھوں نے بعد میں صحافیوں کو بتایا کہ "قانونی طور پر شام آج (جمعرات ) سے کیمیائی ہتھیاروں کے کنونشن کا رکن ملک بن گیا ہے۔ صدر بشارالاسد نے اس کی رکنیت کے لیے ایک قانونی فرمان پر دستخط کر دیے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ ''عرب جمہوریہ شام کیمیائی ہتھیاروں کے امتناع کے کنونشن کو تسلیم کرتا ہے''اور وزیرخارجہ ولید المعلم نے تنظیم برائے امتناع کیمیائی ہتھیار کو خط لکھا ہے جس میں اس سے کہا گیا ہے کہ وہ شام کے فیصلے کا نوٹی فکیشن جاری کر دے۔

بشارالجعفری نے نیوزکانفرنس میں کہا کہ ''شام کے کیمیائی ہتھیار اسرائیل کے جوہری ہتھیاروں کے خلاف سد جارحیت کے لیے ہیں''۔انھوں نے اس موقع پر اسرائیل کے کیمیائی ہتھیاروں کے بارے میں امریکی سی آئی اے کی ایک رپورٹ بھی دکھائی۔

انھوں نے کہا کہ یہ سد جارحیت کا ہتھیار ہے لیکن شامی حکومت یہ بتانے کے لیے کنونشن میں شمولیت اختیار کر رہی ہے کہ ہم وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے تمام ہتھیاروں کے خلاف ہیں۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کے ایک عہدے دار کا کہنا ہے کہ شام کو معاہدے پر دستخط سے قبل چند اور اقدامات کرنا ہوں گے۔ واضح رہے کہ شام ان سات ممالک میں سے ایک ہے جس نے اب تک 1997ء میں طے پائے کیمیائی ہتھیاروں کے کنونشن پر دستخط نہیں کیے ہیں۔ اس معاہدے میں تمام رکن ممالک سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے خطرناک ہتھیاروں کے ذخیرے کو تباہ (ضائع) کر دیں گے۔

یاد رہے کہ شام کے پاس 1970ء کے عشرے سے مختلف النوع کیمیائی ہتھیاروں کا ذخیرہ موجود ہے اور مشرق وسطیٰ میں اس کے پاس سب سے زیادہ کیمیائی ہتھیار بتائے جاتے ہیں لیکن تجزیہ کاروں کے بہ قول ان کو رکھنے کا مقصد واضح نہیں ہے۔ کیمیائی ہتھیاروں کے امتناع کے کنونشن کے تحت ان ہتھیاروں کے استعمال ، تیاری اور ذخیرہ کرنے پر پابندی عاید ہے۔ او پی سی ڈبلیو اس معاہدے پر عمل درآمد کی ذمے دار ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں