.

شام کی سرحد کے ساتھ عراقی فورسز کی اضافی نفری تعینات

امریکی حملے کے پیش نظر عراقی وزیر دفاع اور وزیر داخلہ کا سرحدی علاقے کا دورہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق نے شام کی سرحد کے ساتھ واقع اپنے علاقے میں سکیورٹی فورسز کی مزید نفری تعینات کردی ہے اور وہاں سکیورٹی سخت کردی ہے۔

عراق نے امریکا کے شامی رجیم کے خلاف ممکنہ فضائی حملوں کے پیش نظر نئے سکیورٹی اقدامات کیے ہیں تاکہ کسی بھی ناگہانی صورت حال سے بروقت نمٹا جاسکے۔

امریکا کے شام پر ممکنہ حملے سے پیدا ہونے والی صورت حال کے پیش نظر عراق کے وزیر دفاع اور وزیر داخلہ نے سرحدی علاقے کا دورہ کر کے وہاں سکیورٹی کی صورت حال کا جائزہ لیا ہے۔

شام میں 2011ء سے جاری خانہ جنگی کے آغاز کے بعد سے عراق نے سرحدی علاقے میں سخت سکیورٹی اقدامات کیے ہیں۔ ان کے تحت شام کی سرحد کے ساتھ باڑھ لگائی گئی ہے اور واچ ٹاورز تعمیر کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ سکیورٹی فورسز نے گشت میں اضافہ کردیا ہے تاکہ ناپسندیدہ عناصر کی سرحد کے آرپار نقل وحرکت کو روکا جا سکے۔

عراقی حکام کو خدشہ ہے کہ شام کے خلاف امریکا کے ممکنہ فوجی حملے کے نتیجے میں شامی شہری نقل مکانی کرکے عراق کی جانب آسکتے ہیں جس سے ان کے لیے مسائل میں اضافہ ہوگا۔ واضح رہے کہ عراق نے شام میں جاری خانہ جنگی کے دوران اس کے ساتھ واقع اپنی سرحدوں کو زیادہ تر بند ہی رکھا ہے اور عام شامی شہریوں کی آزادانہ آمد ورفت کو روکا ہے۔