.

مصری عدالت نے سترہ مظاہرین کے قاتلوں کو بری کر دیا

دس پولیس اہلکار اور چار سویلین ملزمان 2011 میں گرفتار ہوئے تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری عدالت نے حسنی مبارک دور کے دس پولیس اہلکاروں اور مبارک کے دیگر چار حامی ملزمان کو 17 پر امن مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کر کے انہیں موت کے گھاٹ اتارنے کے مقدمے سے بری قرار دے دیا ہے۔ عدالت نے 28 جنوری 2011 کونہر سویز سے ملحقہ شہر میں مارے جانے والے مظاہرین کے قاتلوں کو بری کرنے کی کوئی قانونی وجہ اپنے فیصلے میں نہیں بتائی ہے۔

عدالت کی طرف سے غیر متوقع فیصلہ سنتے ہی مقتولین کے بعض ورثاء عدالت میں بے ہوش ہو گئے، جبکہ اس فیصلے پر چیخ پکار کرنے والے لواحقین کو پولیس نے عدات سے نکال باہر کیا۔

حسنی مبارک کے خلاف 2011 میں شروع ہونے والی مزاحمتی تحریک کے دوران لگ بھگ 850 مظاہرین اسی طرح کے واقعات میں گولیوں کا نشانہ بنا کر لقمہ اجل بنا دیے گئے تھے، جس طرح کے واقعات صدر مرسی کی برطرفی کے بعد مصر میں سکیورٹی کی طرف سے پیش آئے اور سرکاری حکام کے مطابق ایک ہزار سے زائد جبکہ اخوان کے مطابق ہزاروں افراد مارے گئے ہیں۔

مبصرین کا خیال ہے کہ عدالت کے اس فیصلے کے بعد موجودہ عدالتوں کی وجہ سے مصر کی فوجی حمایت یافتہ عبوری حکومت کے خلاف عوامی سطح پر ردعمل بڑھے گا۔ دوسری طرف عبوری حکومت نے کسی بھی طرح کی صورت حال کے مقابلے کے لیے ملک میں نافذ ہنگامی حالت میں دو ماہ کی توسیع کر دی ہے۔

ماہ جولائی میں برطرفی کے بعد مسلسل نظر بندی اور مقدمات بھگتنے والے مصر کے پہلے منتخب صدر ڈاکٹر مرسی کے حامیوں اور انسانی حقوق کے لیے سر گرم تنظیموں کے مطابق عبوری حکومت فوجی سرپرستی میں پھر سے حسنی دور کی آمریت واپس لانا چاہتی ہے جس سے عوام نے سینکڑوں جانیں دے کر نجات پائی تھی۔

دوسری طرف عبوری حکومت کے سرپرست اور مصری فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی کے صدر بننے کے خواہشمند ہونے سے متعلق میڈیا رپورٹس کے باوجود عبوری حکومت کا واضح موقف ہے کہ اخوان المسلمون عوام میں اشتعال کو بھڑکانا چاہتی ہے۔

سترہ مصریوں کے قتل سے بری کیے گئے دس پولیس والوں ،ایک مقامی تاجراور اس کے تین بیٹوں کو 2011 میں اس الزام میں گرفتار کیا گیا تھا کہ انہوں نے پرامن مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کر کے انہیں موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ آئندہ دنوں اسی نویت کے ایک مقدمہ کے حوالے سے سابق آمر حسنی مبارک اور ان کے دور کے وزیر داخلہ کو بھی عدالت نے پیشی کے لیے طلب کر رکھا ہے۔