.

اخوان کی احتجاجی ریلی میں دو افراد جاں بحق، چھے زخمی

ریلی کے دوران اہالیاں علاقہ اور مرسی کے حامی آپس میں الجھ پڑے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر سے 'العربیہ' کی نامہ نگار نے اپنے مراسلے میں اطلاع دی ہے کہ جمعہ کے روز اخوان المسلمون کی اسکندریہ شہر میں نکالی گئی احتجاجی ریلی کے موقع ہر اہالیاں علاقہ اور اخوان کے کارکنوں کے درمیان تصادم میں دو افراد جاں بحق اور چھ دوسرے زخمی ہو گئے۔ تصادم میں طرفین نے ایک دوسرے پر ربڑ کی گولیاں، شیشے کی خالی بوتلوں اور پتھروں کا آزادانہ استعمال کیا۔

اسکندریہ شہر میں ملٹری ہسپتال کو جانے والی مصطفی کامل شاہراہ پر معزول صدر محمد مرسی کی بحالی کا مطالبہ کرنے والوں اور اہالیاں علاقہ کے درمیان سارا دن آنکھ مچولی کا سلسلہ جاری رہا۔ اطلاعات کے مطابق صدر مرسی کے حامیوں نے ان کے احتجاج پر معترض اہالیاں علاقہ کو تشدد کا نشانہ بنانے کے لئے لائیو اسلحہ بھی استعمال کیا، جس کا جواب دینے کے لئے دوسرے اہل محلہ بھی تصادم میں کود پڑے، رن کا رنگ پڑنے پر اخوان المسلمون کے کارکنوں نے تنگ گلیوں کی میں چھپ کر جان بچائی۔

اخوان المسلمون کے حامیوں نے قاہرہ کی مسجد رابعہ العدویہ اور النہضہ اسکوائر میں فوجی آپریشن کا ایک ماہ مکمل ہونے پر تین احتجاجی ریلیاں نکالیں تھیں۔

ان ریلیوں میں معزول صدر مرسی کی حمایت میں ترانے چلائے جاتے رہے۔ مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں رابعہ العدویہ کا پیلے رنگ کا نشان، مصری پرچم اور اخوان کے دھرنوں میں خونریز فوجی آپریشن میں جاں بحق ہونے والوں کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں۔

مظاہرین فوج کےسربراہ اور عبوری حکومت میں وزیر دفاع جنرل عبدالفتاح السیسی کے خلاف نعرہ لگا رہے تھے۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ معزول مرسی کا اقتدار بحال کیا جائے، وہ 'فوجی حکومت کا خاتمہ ہو" ۔۔۔۔ "فوجی انقلاب، دہشت گردی" اور "سیسی او سیسی مرسی میرا صدر ہے" کے فلک شگاف نعرے لگا رہے تھے۔

ریلی کے بعض شرکاء ساحل سمندر پر واقع بعض قہوی خانوں میں اپنے مطالبات پر مبنی پمفلٹ بھی تقسیم کرتے رہے۔ ریلی کے شرکاء اور اہالیاں علاقہ کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ نماز جمعہ کے بعد القائد ابراہیم مسجد کے باہر ہوا جس میں فریقین نے ایک دوسرے کے خلاف خالی بوتلوں اور پتھراٶ کا آزادانہ استعمال کیا۔

جنرل سیسی اور ان کی فوج کے تیار کردہ روڈ میپ کی حمایت کرنے والوں نے علاقے پر جلدی اپنا کنڑول قائم کر لیا جس کے بعد معزول صدر مرسی کے حامی علاقے سے فرار ہو گئے اس طرح جھڑپوں کا سلسلہ طول نہیں پکڑ سکا۔