امریکا نے شام کیخلاف فوجی کارروائی کی آپشن ترک نہیں کی

سزا نہ دی تو ایران بھی کیمیائی ہتھیار بنا سکتا ہے: مشیر صدر اوباما

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکا نے شام کے خلاف فوجی کارروائی کی آپشن ترک نہیں کی ہے۔ بشارالاسد کی حکومت سے علیحدگی پر امریکی اصرار اور شامی اپوزیشن کی سیاسی و فوجی دونوں طرح کی حمایت جاری ہے۔ اس امرکا اظہار قومی سلامتی کے امور سے متعلق صدر اوباما کے نائب مشیر بن روڈز نے ''العربیہ'' کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کیا ہے۔

صدر کے مشیر کا کہنا ہے امریکا شامی رجیم کی طرف سے کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق ذمہ داریاں پوری کرنے اور کیمیائِی ہتھیار بین الاقوامی برادری کے حوالے کرنے کا زیادہ دیر تک انتظار نہیں کرے گا۔ ''ہم سمجھتے ہیں کہ وہ بات چیت اس لیے کر رہا کہ اسے امریکی فوجی طاقت کا خوف ہے، اس لیے صدراوباما نے کہہ دیا ہے کہ ہم دیکھیں گے شام کیمیائی ہتھیار ترک کرنے اور بالآخر ان ہتھیاروں کے خاتمے کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتا ہے توشام کے لیے فوجی کارروائی کا خطرہ موجود رہے گا۔ ''

ایک سوال پر صدر اوباما کے مشیر نے کہا '' یقینا انتظار کی یہ مہلت چند ہفتوں سے زیادہ نہیں ہو سکتی ہے ، کیونکہ اوباما انتظامیہ نہیں چاہتی کہ شام کیمیائی ہتھیاروں کی حوالگی کے لیے تاخیری حربے استعمال کرے ۔'' بن روڈز نے واضح کیا کہ ''شامی کیمیائی ہتھیاروں کی حوالگی مکمل ہونے کے لیے وقت ان ہتھیاروں کے حجم کے مطابق ہو گا ''

شامی اپوزیشن کومدد دینے کی وضاحت کرتے ہوئے اوباما کے قومی سلامتی سے متعلق نائب مشیر نے کہا شامی اپوزیشن کے سیاسی اور فوجی دونوں شعبے کام کر رہے ہیں۔ اس لیے دونوں شعبوں کو امریکی امداد دی جارہی ہے، تاہم انہوں اس پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا کہ شامی اپوزیشن کو کس قسم کی فوجی امداد دی جا رہی ہے۔

بن روڈز کا کہنا امریکا شام کے بحران کے خاتمے کے لیے ترکی ،سعودی عرب ،قطر، متحدہ عرب امارات ، اردن اور خطے کے دوسرے ممالک کے سا تھ مل کر کام کر رہا ہے ، ''ہم یہ یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ہم سب مل کر اپوزیشن کی سیاسی اور فوجی گروپوں کی مدد کریں تاکہ وہ مضبوط ہو سکیں ۔''

ایرانی خطرے کے حوالے سے صدر اوباما کے مشیر کا کہنا تھا '' شامی صدر کے خلاف طویل مد تی حکمت عملی ضروری ہے، اگر بشارالاسد کو کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کی سزا نہ دی گئی تو ایران بھی اسی نوعیت کے کیمیائی ہتھیار بنا سکتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ باور کرایا جائے کہ بین الاقوامی برادری اور امریکا اس مسئلے کا تدارک کر نا چاہتے ہیں''

مسٹر روڈز نے کہا ''اگرایران جوہری ہتھیار بنانے میں کامیاب ہو گیا تو اس سے صرف خطے کو خطرہ نہیں ہو گا، بلکہ دنیا میں جوہری اسلحے کی ایک دوڑ شروع ہو جائے گی، اسی طرح ایران اپنے اتحادی لبنانی شیعوں اور حزب اللہ کو یہ ہتھیا ر منتقل کر سکتا ہے۔''

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں