شمالی عراق میں جنازے میں خودکش دھماکا، 22 ہلاک متعدد زخمی

دھماکا عراقی صوبے نینوا کے صدر مقام موصل کے قریب ہوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق میں حکام کے مطابق ملک کے شمالی حصے میں ایک جنازے میں ہونے والے خود کش دھماکے میں 22 سے زائد افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے۔ یہ دھماکا ہفتے کے روز عراق کے صوبے نینوا کے دارالحکومت موصل کے قریب ہوا۔

خبر رساں اداروں کے مطابق مرنے والوں کا تعلق شعیہ مسلک سے ہے اور ابھی تک یہ واضح نہیں کہ اس دھماکے کے پیچھے کون ہے؟ خیال رہے کہ یہ واقعہ عراق کے مرکزی شہر بعقوبہ میں ایک سنی مسجد پر بم حملے کے ایک روز بعد پیش آیا ہے۔ عراق میں حالیہ مہنیوں کے دوران فرقہ وارانہ تشدد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ تشدد کا حالیہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب موصل کے قریب شبعک قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی نماز جنازہ کو نشانہ بنایا گیا۔ شبعک کا قبیلہ موصل اور بشیکہ کے درمیان واقع ہے اور اس کی آبادی پچاس ہزار افراد پر مشتمل ہے۔

رواں سال عراق میں مختلف دہشت گرد کاروائیوں میں اب تک تقریبا چار ہزار افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس سے خطرہ بڑھ گیا ہے کہ عراق مزید فرقہ وارانہ فسادات کی جانب بڑھے گا جس طرح ماضی میں 2006 اور 2007 کے دوران فرقہ وارانہ فسادات ہوئے تھے۔

حکام 2008ء کے بعد سے ملک میں بدترین بدامنی پر قابو پانے کیلئے کوشاں ہیں اور دارالحکومت میں وسیع پیمانے پر شدت پسندوں کو نشانہ بنانے کیلئے کارروائیوں کے ساتھ ساتھ سخت ٹریفک انتظامات اٹھائے جا رہے ہیں تاہم کئی شہروں میں حملے تسلسل کے ساتھ ہو رہے ہیں۔

سیکیورٹی فورسز کی جانب سے ملک کے دارالحکومت اور شمال اور مغربی علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف ایک بڑے پیمانے پر آپریشن کرنے کے باوجود عراق میں پر تشدد حملے جاری ہیں ، جس کے بعد حکومت پر شدید تنقید کی جارہی ہے کہ وہ 2008ء سے جاری تشدد پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں