عراق: نماز کے دوران مسجد میں بم دھماکا، 33 افراد جاں بحق

موصل میں بھی سڑک کنارے نصب بم پھٹنے سے دو فوجی ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراقی شہر بعقوبہ میں مسجد کے اندر ہونے والے بم کے دھماکے میں کم از کم 33 افراد جاں بحق ہوگئے۔ پولیس حکام کے مطابق دھماکا نماز کے دوران ایئر کنڈیشنر میں چپھائے گئے بم کے پھٹنے سے ہوا. کہا جا رہا ہے کہ حالیہ دنوں میں یہ خونریز ترین بم دھماکا تھا۔

پولیس حکام کے مطابق یہ دھماکا عراقی دارالحکومت بغداد سے 65 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع بعقوبہ کے مضافاتی قصبے اُم الادھم میں ہوا۔ پولیس کے مطابق 30 افراد جاں بحق جبکہ 45 دیگر زخمی ہوئے۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹد پریس نے دو سکیورٹی اہلکاروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ بم مسجد کی کھڑکی میں لگے ایک ایئر کنڈیشنر میں چھپایا گیا تھا۔

بعقوبہ آغاز ہفتہ پر بھی دہشت گردی کا نشانہ بنا تھا۔ منگل 10 ستمبر کو ایک کھلی مارکیٹ میں ہونے والے تین کار بم دھماکوں کے نتیجے میں 10 شہری جاں بحق ہو گئے تھے۔

ادھر عراق کے ایک شمالی شہر موصل میں بھی گذشتہ روز سڑک کنارے نصب ایک بم پھٹنے کے نتیجے میں دو فوجی ہلاک جبکہ دو دیگر زخمی ہوئے جبکہ موصل کے قریبی ڈسٹرکٹ شوریٰ میں ایک مسلح شخص کی فائرنگ سے ایک مقامی میونسپل اہلکار خَلاف حمید ہلاک ہو گیا۔ ہسپتال ذرائع نے ان تینوں حملوں اور ان کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔

عراق گزشتہ نصف دہائی کے دوران کے شدید ترین دہشت گردانہ حملوں کا نشانہ بنا ہوا ہے، جس کے باعث یہ خدشات جنم لے رہے ہیں کہ عراق ایک بار پھر فرقہ ورانہ خون خرابے کی طرف لوٹ رہا ہے۔ 2006-7 کے دوران عراق بدترین تشدد کی لپیٹ میں رہا تھا۔

اقوام متحدہ کے اعداد وشمار کے مطابق رواں برس اپریل سے اب تک عراق میں 4000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ گزشتہ ماہ اگست کے دوران عراق میں دہشت گردانہ واقعات میں 804 افراد ہلاک ہوئے۔ عراق میں بعض اوقات ایک ماہ کے دوران دہشت گردانہ حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد تین ہزار تک بھی پہنچتی رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں