.

شام نے امریکا، روس میں کیمیائی ہتھیاروں پر ڈیل فتح قرار دے دی

عرب لیگ کا خیر مقدم، ڈیل سے شامی بحران کے سیاسی حل میں مدد ملے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی حکومت نے امریکا اور روس کے درمیان کیمیائی ہتھیاروں کے خاتمے سے متعلق ڈیل کو اپنی فتح قرار دے دیا ہے۔

شام کے وزیر مملکت برائے قومی مصالحت علی حیدر نے اتوار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ''اس ڈیل سے ایک طرف تو شامیوں کو بحران سے نکلنے اور دوسری جانب شام کے خلاف جنگ سے بچنے میں مدد ملی ہے''۔

روس کے خبر رساں ادارے ریا نووستی کے ساتھ انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ ''یہ ڈیل شامیوں کی ایک بڑی فتح ہے اور یہ روسی دوستوں کی مدد سے حاصل ہوئی ہے''.

عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل نبیل العربی نے بھی اس ڈیل کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے شامی بحران کے سیاسی حل کی تلاش میں مدد ملے گی اور یہ ڈیل سیاسی حل کے قریب ترین قدم ہے۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور ان کے روسی ہم منصب سرگئی لاروف نے جنیوا میں تین روز کے مذاکرات کے بعد ہفتے کو شام کے کیمیائی ہتھیاروں کے ذخیرے کے خاتمے سے متعلق ڈیل کا اعلان کیا تھا۔

دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان طے پائے اس معاہدے کے تحت شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو آیندہ سال کے وسط تک عالمی کنٹرول میں دے دیا جائے گا۔ اگر دمشق حکومت اس پر عمل درآمد میں ناکام رہتی ہے تو پھر اس کے خلاف پابندیاں عاید کردی جائیں گی لیکن اس میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ان پابندیوں کی نوعیت ہوگی۔

روس اور امریکا کے درمیان طے پائے معاہدے کے تحت شامی صدر بشارالاسد ایک ہفتے کے اندر انھیں اپنے کیمیائی ہتھیاروں کی تفصیل سے آگاہ کرنے کے پابند ہیں۔ جان کیری کا کہنا ہے کہ شامی صدر اقوام متحدہ کے کیمیائی ہتھیاروں کے اسلحہ انسپکٹروں کو فوری طور پر اور بلا روک ٹوک اپنی تنصیبات تک رسائی دیں۔