.

شام کے خلاف طاقت کے استعمال کی دھمکی بدستور موجود ہے: جان کیری

جنیوا میں طے پائی مفاہمت کی یاد داشتیں حقیقی سمجھوتا نہیں ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے خلاف امریکا کی جانب سے فوجی طاقت کے استعمال کا حقیقی امکان بدستور موجود ہے۔

یہ بات امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے اتوار کو مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ نیوز کانفرنس میں کہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ''طاقت کے استعمال کی دھمکی بدستور موجود ہے اور یہ دھمکی حقیقی ہے''.

انھوں نے خبردار کیا کہ ''عالمی امور کے حوالے سے ہمارے خالی خولی الفاظ نہیں ہوسکتے۔ ہم نے کسی بھی آپشن کے استعمال کو مسترد نہیں کیا ہے۔ فوجی طاقت کے استعمال کی دھمکی حقیقی ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار انھوں نے (شامی حکومت نے) اپنے ہی لوگوں کے خلاف استعمال کیے ہیں۔ یہ انسانیت کے خلاف جرائم ہیں اور ان سے کوئی رو رعایت نہیں برتی جاسکتی''۔

امریکی وزیر خارجہ نے جنیوا میں روسی ہم منصب سرگئی لاروف کے ساتھ شام کے کیمیائی ہتھیاروں کے بارے میں طے پائے سمجھوتے کے حوالے سے کہا کہ ''جنیوا میں طے پائی مفاہمتیں ایک فریم ورک ہیں اور یہ حتمی سمجھوتا نہیں ہیں''۔

لیکن انھوں نے اعتراف کیا کہ ''اس سمجھوتے پر عمل درآمد بہت اہم ہوگا اور یہ نفاذ کی طرح موثر بھی ہوگا مگر کیمیائی ہتھیاروں کے خاتمے سے کام نہیں ہوگا، ہم اس کو سمجھتے ہیں لیکن یہ ایک آگے کا قدم ہےاور اس سے ایک ایسے شخص کے ہتھیاروں کے خاتمے میں مدد ملے گی جو اپنے اقتدار کو برقرار رکھنے کے لیے اپنے ہی لوگوں کے ساتھ کچھ بھی کرنے کو تیار ہے''۔

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اس موقع پر کہا کہ ''شام کو کیمیائی ہتھیاروں سے محروم کرنے سے پورا خطہ زیادہ محفوظ ہوجائے گا۔ دنیا کو اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ ریڈیکل رجیم کے پاس وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہاتھ نہ لگیں کیونکہ شام سے ایک مرتبہ پھر یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ اگر یہ ہتھیار روگ رجیم کے پاس ہوں گے تو وہ ان کو استعمال بھی کریں گے''۔

امریکی وزیرخارجہ جان کیری اور ان کے روسی ہم منصب سرگئی لاروف نے جنیوا میں تین روز کے مذاکرات کے بعد ہفتے کو شام کے کیمیائی ہتھیاروں کے ذخیرے کے خاتمے سے متعلق سمجھوتے کا اعلان کیا تھا۔

دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان طے پائے اس سمجھوتے کے تحت شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو آیندہ سال کے وسط تک عالمی کنٹرول میں دے دیا جائے گا۔ اگر دمشق حکومت اس پر عمل درآمد میں ناکام رہتی ہے تو پھر اس کے خلاف پابندیاں عاید کردی جائیں گی لیکن اس میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ان پابندیوں کی کیا نوعیت ہوگی۔

روس اور امریکا کے درمیان طے پائے سمجھوتے کے تحت شامی صدر بشارالاسد ایک ہفتے کے اندر اپنے کیمیائی ہتھیاروں اور ان کی جگہوں سے متعلق تفصیل سے آگاہ کرنے کے پابند ہیں۔