.

لبنانی اسپیکر کی جانب سے قومی مفاہمت کا نیا فارمولہ پیش

بیروت کو شامی بحران سے فاصلے پر رکھنے کی ایک اور کوشش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے بحران سے متاثرہ لبنانی سیاست دانوں نے ملک کے تمام نمائندہ قومی دھڑوں کے درمیان یکجہتی اور مفاہمت کے قیام کے لیے "سیاسی مذاکرات" کی مساعی ایک مرتبہ پھر سے شروع کی ہیں۔ صدر میشل سلیمان کے بعد لبنانی اسپیکر پارلیمنٹ نبیہ بری نےبھی بات چیت کے ذریعے ملک میں مفاہمت کے لیے "سیاسی مذاکرات" ایک نیا فارمولہ پیش کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جب سے شام میں جاری سیاسی بحران سے لبنان متاثر ہونا شروع ہوا ہے بیروت کی سیاسی قیادت سرجوڑ کر بیٹھنے کی خواہاں ہے تا کہ دمشق کے بحران سمیت علاقائی تنازعات سے ملک کو محفوظ رکھا جا سکے، تاہم ان مساعی کا کوئی مثبت نتیجہ ابھی تک سامنے نہیں آیا ہے۔ اب اسپیکر کی جانب سے پیش کردہ مفاہمت فارمولے پر نظریں مرکوز ہیں۔ ان کی سیاسی ڈائیلاگ کی کوشش اگر کامیاب ہو گئی تو شام کے تنازع کے لبنان پر زیادہ منفی اثرات نہیں پڑ سکیں گے۔ صدر میشل سلیمان اور اسپیکر نبیہ بری کے علاوہ سابق وزیراعظم نجیب میقاتی بھی ایک مفاہمتی فارمولے کی تیاری میں مصروف ہیں۔

توقع ہے کہ مسٹرمیقاتی کا قومی مفاہمتی فارمولہ ائندہ ہفتے منظر عام پرآ جائے گا۔ سازگارماحول سے فائدہ اٹھانے کی کوشش لبنانی پارلیمنٹ میں اسپیکر نبیہ بری کی جماعت "فریڈم اینڈ ڈویلپمنٹ" سے وابستہ رکن پارلیمنٹ میشل موسیٰ نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "مسٹر بری ملک میں موجود مفاہمت کے لیے سازگار فضاء سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

موجودہ حالات بالخصوص شام میں جاری لڑائی اوراس کے منفی اثرات کے بعد تمام سیاسی دھڑے مفاہمت پرغور کر رہے ہیں۔ یوں پورے ملک میں ایک فضاء بنی ہوئی ہے، لیکن اس کے لیے پہل نبیہ بری نے کی ہے۔ مفاہمتی مذاکرات کا اعلان کرکے اسپیکر نے کھڑے پانی میں پہلا پتھر پھینکا ہے۔ امید ہے کہ دیگر سیاسی دھڑوں اور نمائندہ قومی گروپوں کی جانب سے مثبت جواب ملے گا"۔ انہوں نے کہا کہ اگرملک میں سیاسی مفاہمت کی یہ بیل منڈھے چڑھ گئی تو اس سے نہ صرف شام کے بحران کے منفی اثرات کم ہوجائیں گے بلکہ دگرگوں ملکی معیشت کی بحال، امن وامان کی بہتراور سیاسی استحکام بھی پیدا ہوگا۔

ایک دوسرے سوال کے جواب میں مسٹر میشل موسیٰ نے کہا کہ "نبیہ بری کی جانب سے پیش کردہ مفاہمتی مذاکرات کا فارمولہ ایک جامع دستاویز ہو گا جس میں ملکی سیاست، حکومت ، فوج، امن وامان کے قیام، معیشت کی بہتری، شام کا بحران، ملک میں صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کے لیے شیڈول اور ملک کے اسٹریٹیجک اور دفاعی امور بھی شامل ہوں گے"۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ ملک میں مختلف الخیال جماعتوں کے درمیان پائے جانے والے نظریاتی "فاصلے" قومی مفاہمت اور سیاسی مذاکرات کی راہ میں قدم قدم پر رکاوٹیں کھڑی کریں گے، تاہم اگر بڑی سیاسی جماعتیں چند ایک مشترکات پربھی جمع ہو جائیں تو معمولی نوعیت کے اختلافات کو ختم کیا جاسکتا ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ نبیہ بری شام کے بحران سے نکلنے کے لیے سیاسی ڈائیلاگ کےکوشاں تو ہیں مگرملک کی ایک بڑی شیعہ تنظیم"حزب اللہ" شام میں بشارالاسد کی کھلے عام حمایت اور مدد کر رہی ہے۔ ایسے میں لبنان کو اس جنگ سے کیسے باہر نکالا جا سکتا ہے؟۔ اس سوال کے جواب میں میشل موسیٰ کا کہنا تھا کہ "نبیہ بری کے سیاسی فارمولے پر بات چیت کا آغازتمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے پارلیمانی گروپوں کے درمیان شروع ہوگا۔ پارلیمانی پارٹیاں حتمی مذاکرات کا ایجنڈا تیار کریں گی جس میں تمام ریاستی اداروں اور تنظیمیوں کے تحفظات کا خیال رکھا جائے گا۔ بعد ازاں صدر جمہوریہ کی نگرانی میں جامع مذاکرات کیے جائیں گے۔حزب اللہ کے تعاون کا دائرہ؟لبنان میں داخلی سیاسی بحران ہو یا شام کا مسئلہ ہو۔ دونوں صورتوں میں شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے کردار کونظراندازنہیں کیا جاسکتا ہے۔ بیروت اس وقت دونوں بحرانوں کا ایک ساتھ سامنا کر رہا ہے۔

ایسے میں کیا حزب اللہ دیگر سیاسی جماعتوں کا ساتھ دے گی؟ یہی سوال العربیہ ڈاٹ نیٹ نے سیاسی تجزیہ کار چارل جبور سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ "جہاں تک لبنان میں حکومت کے قیام کا تعلق ہے تو حزب اللہ اور صدر جمہوریہ میشل سلیمان کے درمیان کوئی نہ کوئی سمجھوتہ ضرور طے پاسکتا ہے مگر شام کے بحران کے حوالے سے غیر یقینی کی کیفیت ہے۔ صدرکی جانب سے تمام سیاسی جماعتوں بشمول حزب اللہ کے قومی حکومت کی تشکیل میں شمولیت کی دعوت دی جاچکی ہے، لیکن صدر کی جانب سے "اعلان بعبدا" مفاہمتی فارمولے کی بعض شرائط پر حزب اللہ کو سخت اعتراض ہے۔ صدر کی جانب سے مفاہمتی فارمولے میں حزب اللہ کے غیر مسلح ہونے کی شرط بھی شامل ہے، لیکن حزب اللہ یہ شرط ماننے کو تیار نہیں ہے۔ البتہ اگرصدراپنے سیاسی فارمولے میں "مزاحمت" یا مسلح جدو جہد کی بات نکال دیں تو حزب اللہ کی جانب سے قابل قبول ہوسکتی ہے۔

حزب اللہ کے حلقوں کی خبررکھنے والے تجزیہ نگار چارل جبور کا کہنا ہے کہ صدر میشل سلیمان کے سیاسی مفاہمتی فارمولے پرحزب اللہ نے اپنا رد عمل ظاہر کردیا ہے۔ تنظیم کے سیاسی حلقوں کی جانب سے یہ واضح کردیا گیا ہے کہ وہ "اعلان بعبدا" میں" قوم ،مسلح افواج اور مفاہمت" کی شق کو کسی صورت میں قبول نہیں کرے گی کیونکہ اس میں حزب اللہ کواسلحہ ترک کرنے پر زور دیا گیا ہے۔