اسرائیل کے پاس 80 نیوکلیئر "وار ہیڈز" کی موجودگی کا انکشاف

تل ابیب نے 2004 ء کے بعد "وار ہیڈز" کی تیاری روک دی تھی: ہارٹز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل کے پاس دھماکہ خیز مواد سے لیس 80 ایٹمی وار ہیڈز تیار حالت میں موجود ہیں۔ تل ابیب حکومت چاہے تو ان کی تعداد دوگنا کرتے ہوئے کچھ عرصے میں 115 سے 190 نیو کلیئر وار ہیڈز تیار کر سکتی ہے تاہم سنہ 2004ء کے بعد سے اس نوعیت کے اسلحے کی تیاری روک دی گئی تھی۔ اس امر کا انکشاف کے کثیرالاشاعت عبرانی اخبار "ہارٹز" نے اپنی حالیہ اشاعت میں کیا ہے۔

'ہارٹز' کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل بھی امریکا، روس، برطانیہ، فرانس، چین، بھارت، پاکستان اور شمالی کوریا جیسے جوہری صلاحیت کے حامل ممالک کی صف میں شامل ہو چکا ہے۔

عبرانی اخبار نے امریکی ایٹمی سائنسدانوں اور ماہرین کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ گذشتہ نو سال سے اسرائیل میں جوہری اسلحے کی تیاری کا عمل منجمد ہے تاہم اس کے اسباب ومحرکات کے بارے میں معلوم نہیں ہو سکا کہ اسرائیل نے ایسا کیوں کیا ہے؟

امریکی انٹیلی جنس اداروں نے سنہ 1999ء میں اپنی رپورٹس میں بتایا تھا کہ اسرائیل کے پاس 70 وار ہیڈز موجود ہیں۔ اگلے پانچ سال میں اسرائیل نے مزید 10 وار ہیڈز تیار کیے۔ سنہ 2004ء کو یہ تعداد 80 ہو گئی تھی جس کے بعد اس میں اضافہ نہیں کیا گیا۔
سنہ 1967ء سے 2004ء تک اسرائیل سالانہ دو سے تین ایٹمی وار ہیڈ تیار کرتا چلا آیا ہے۔ سنہ 1970 تا 2004ء کے دوران ہر چار سال بعد تین وار ہیڈز تیار کیے جاتے رہے ہیں۔

اسرائیلی اخبار نے دو امریکی ماہرین 'ہنس کریسٹنسن' اور 'رابرٹ نوریس' کے بیانات بھی نقل کیے ہیں، جن میں ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے ہاں 80 وار ہیڈز اسلحے کے خفیہ ذخائر میں تیار حالت میں رکھے ہوئے ہیں، جنہیں کسی بھی وقت استعمال کیا جا سکتا ہے۔

خیال رہے کہ اسرائیل کے متنازعہ جوہری پروگرام کے حوالے سے ماضی میں بھی اس نوعیت کی رپورٹس سامنے آتی رہی ہیں تاہم تل ابیب کی جانب سے ان رپورٹس کی تائید یا تردید کبھی نہیں کی گئی۔ سنہ 1980ء میں اسرائیلی سائنسدان مردخائی نونو نے دعوٰی کیا تھا کہ حکومت نے جنوبی اسرائیل میں دیمونا ایمٹی پلانٹ قائم کیا ہے، جہاں جوہری اسلحہ تیار کیا جا رہا ہے۔ مسٹر مردخائی کا کہنا تھا کہ ان کا ملک 200 وار ہیڈز تیار کرنے کے ساتھ ساتھ ہائیڈروجن اور بیالوجیکل اٹیم بم بنانے کی بھی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔

امریکی جریدے "فارن پالیسی" کی رپورٹ کے مطابق سنہ 1973ء کی عرب ۔ اسرائیل جنگ کے بعد تل ابیب نے عرب ملکوں کے حملوں سے بچنے کے لیے کیمیائی اور بیالوجیکل ہتھیاروں کی تیاری پر توجہ مرکوزکی تھی۔ رپورٹ کے مطابق سنہ 1982ء میں امریکی سیٹلائٹس کے ذریعے دیمونا ایٹمی پلانٹ میں "سیرین" گیس کی تیاری کا پتہ چلایا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں