امریکا، برطانیہ اور فرانس شامی اپوزیشن کی امداد میں اضافے پر متفق

شام کو کیمیائی ہتھیار عالمی کنٹرول میں نہ دینے پر مضمرات کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکا، برطانیہ اور فرانس نے شامی صدر بشارالاسد کی فوج کے خلاف محاذ آراء باغی جنگجوؤں کی امداد میں اضافے سے اتفاق کیا ہے۔

تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے پیرس میں سوموار کو ملاقات میں اس بات سے بھی اتفاق کیا ہے کہ ''اگر بشارالاسد شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو اقوام متحدہ کی مجوزہ قرارداد کے تحت بین الاقوامی کنٹرول میں نہیں دیتے تو پھر انھیں مضمرات کا سامنا کرنا پڑے گا''۔

فرانسیسی وزیرخارجہ لوراں فابئیس اور برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ سے ملاقات کے بعد جان کیری نے کہا کہ ''اتحادیوں نے شامی حزب اختلاف کی امداد کا عزم کررکھا ہے اور بشارالاسد اپنے ملک پر حق حکمرانی کھو چکے ہیں''۔

انھوں نے کہا کہ ''ہم نے یہاں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہمارے درمیان (جنیوا میں) جو سمجھوتا طے پایا ہے، اس کو اقوام متحدہ کی قرارداد کی شکل میں عملی جامہ پہنایا جائے گا۔ یہ بہت سخت ہوگی، حقیقی اور شفاف ہوگی۔ یہ بروقت ہوگی اور اس کا نفاذ کیا جائے گا''۔

جان کیری کا کہنا تھا کہ''اگر اسد رجیم کو یہ یقین ہے کہ یہ قابل نفاذ نہیں ہے یا ہم سنجیدہ نہیں ہیں تو پھر وہ ایک گیم کھیل رہے ہوں گے''۔

درایں اثناء فرانسیسی وزیرخارجہ لوراں فابیئس نے آیندہ ہفتے نیویارک میں شامی قومی اتحاد کی قیادت کے ساتھ ایک اہم بین الاقوامی اجلاس منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ''ہم اس بات سے آگاہ ہیں کہ (بحران کے) سیاسی حل کے لیے ایک مضبوط حزب اختلاف کی ضرورت ہے''۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں